ذِکر امریکی فقیروں کا

فاروق عاربی

ہم نے واشنگٹن میں چالیس دن ایسے گزارے جیسے کوئی اجمیر شریف میں جا کر چلہ کاٹتا ہے۔ خدا کی قدرت کو سو رنگ میں تجلی پذیر دیکھا۔ ان ایام میں جہاں ہم نے معرفت اور سلوک کی دیگر منازل طے کیں وہاں مشاہدہ کے مقام سے بھی آشنا ہوئے۔ واشنگٹن میں بیٹھ کر داتا دربار اور بری امام کے نظارے کیے۔ کنکورڈیا، جہاں ہماری رہائش تھی سے آئی۔ایم۔ایف کے دفتر تک پیدل آنا جانا ہوتا تھا۔ تقریباً بیس منٹ کا راستہ تھا۔ راستے میں حسنِ صبیح کا نظارۂ عام تو اپنی جگہ لیکن جو چیز ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرتی وہ ایک چرچ کے باہر فقیروں کا ڈیرہ تھا۔ یہ فقیر صبح سویرے وہ الکھ جماتے کہ گورے اور گوریاں چاہے کتنی ہی جلدی میں کیوں نہ ہوں ایک لمحے کیلئے وہاں ضرور رکتے، ڈالر دو ڈالر فقیروں کے ہاتھ میں رکھتے اور ان سے دعائیں لیتے ۔

دعاؤں کی خرید و فروخت کے مناظر پاکستان میں بھی عام ہیں۔ بلکہ ہمارا تو گزارا ہی صرف دعاؤں پر ہے۔ اپنی تو یہ حالت ہے کہ اگر کبھی امتحان میں اچھے نمبر آ جائیں تو ہم اس کا سارا الزام والدین کی دعاؤں کو دیتے ہیں۔ اور اگر کاروبار میں نقصان ہو جائے تو فوراً سوچتے ہیں کس کی بد دعا لگی ہے۔ اپنے دم سے نہ ہم کچھ پاتے ہیں نہ کھوتے ہیں۔ لیکن یہ ہم نے نہیں سوچا تھا کہ امریکی بھی دعا کا سہارا لیتے ہیں، اور محض دعا کے حصول کیلئے ڈالر بھی خرچ کرتے ہیں۔

فقیر چاہے پاکستان کے ہوں یا امریکہ کے اپنے دھندے کے بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ انھیں علم ہوتا ہے کہ وہ جو چیز بیچتے ہیں (یعنی دعائیں) اس کی سب سے زیادہ مانگ مسجدوں، درباروں اور عبادت گاہوں کے پاس ہی ہوتی ہے لہٰذا وہ اپنی دکانیں ایسی ہی جگہوں پر سجاتے ہیں۔ ایک تو ان جگہوں پر گاہک (یعنی دعاؤں کے طلبگار) بہت ہوتے ہیں اور دوسرا جب کوئی انسان یہاں آتا ہے تو وہ اپنے کمزور ترین لمحوں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی طلب کی لچک بہت کم ہوتی ہے، یعنی اسے جس چیز کی طلب ہوتی ہے، وہ اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ اور یہ معاشیات کا اصول ہے کہ جس چیز کی طلب کی لچک کم ہو اس کے بیچنے والے کو منافع بھی زیادہ ہوتا ہے، اتنی معاشیات تو فقیر بھی جانتے ہیں۔

میرا خیال ہے فقیروں کی معاشی سرگرمیوں پر ابھی تک کسی نے توجہ نہیں کی، اگر کوئی کرنا چاہے تو یہ بھی تحقیق کا ایک وسیع میدان ثابت ہو سکتا ہے۔ خصوصاً ایف۔بی۔آر کے لوگ اس طرف توجہ کریں تو فقیروں پر ٹیکس لگا کر کافی ریونیو حاصل کر سکتے ہیں۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو ایف۔بی۔آر والے خود بھی فقیر ہوتے ہیں، کیونکہ بقول شاعر:

مانگنے والا ہے گدا؛ بھیک مانگے یا خراج !

شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک فقیروں کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ چلی آ رہی ہے، اور ہر سال جو بجٹ تجاویز پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہیں ان میں فقراء پر ٹیکس لگانے کی تجویز نہیں ہوتی۔ آخر ایف۔بی۔آر کے لوگ اپنے ہی بھائیوں پر کیوں ٹیکس لگوائیں؟ دوسری طرف ہماری پارلیمنٹ بھی تو فقراء پر مشتمل ہے، یقین نہ آئے تو ان کی آمدنی کے گوشوارے چیک کر لیں۔ اب تو جی چاہتا ہے کاش ہم بھی فقیر ہوتے، ٹیکس سے تو بچے رہتے۔

فقیروں کے کچے اڈے یا اگر خالص کاروباری انداز سے بات کریں تو ‘فقیر بازار’ زیادہ تر مسجدوں اور درباروں کے باہر ہی ہوتے ہیں لیکن بہت سے فقیر گلی بازاروں میں گھوم پھر کر بھی دعائیں بیچتے ہیں۔ ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے گاؤں وغیرہ میں چوڑیاں بیچنے والے یا سبزی فروش پھیرے لگاتے ہیں۔ واشنگٹن کے گلی بازاروں اور پارکوں میں بھی اس طرح کے فقیر نظر آ جاتے ہیں لیکن میں نے انھیں نعتیں پڑھتے ہوئے یا اللہ ھو کی صدائیں لگاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس لئے مجھے یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ راہ چلتے لوگوں کے جذبۂ سخاوت کو کس طرح ابھارتے ہیں۔ میں اتنے دن وہاں رہا لیکن کسی فقیر کی نظرِ التفات مجھ پر نہیں پڑی جس سے مجھے پتہ چلتا کہ امریکی فقیر کن لفظوں میں بھیک مانگتے ہیں۔ شاید انھیں میرے بارے میں اندازہ ہو جاتا ہو گا کہ یہ خود مانگنے والے ملک کا باشندہ ہے، ان کے تو اپنے ہاتھ میں کشکول ہوتا ہے۔

ویسے اگر عربی کا یہ مقولہ درست ہے کہ ’العوام علیٰ ملوکہم‘ تو امریکی فقیروں کے مانگنے کے انداز کا اندازہ امریکی صدر کے مانگنے کے انداز سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ کو کسی دوسرے ملک کا تعاون چاہیے ہو تو امریکی صدر اس ملک کے سربراہ کو محض ایک فون کال کرتا ہے کہ ہمیں فلاں فلاں حوالے سے تمھارا تعاون درکار ہے، اگر تعاون کرو گے تو ٹھیک! ورنہ۔۔۔۔۔۔! اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکی فقیر کس طرح بھیک مانگتے ہوں گے، اور انھیں دینے والے ایک لمحہ کا بھی توقف نہیں کر پاتے ہونگے۔

کنکورڈیا میں مجھے جو اپارٹمنٹ ملا ہوا تھا اس کے دو اطراف سڑک لگتی تھی۔ میں اکثر ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر دونوں طرف کی سڑکوں کا نظارہ کرتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ میں اپنے معمول کے مطابق کھڑکی کے ساتھ بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا کہ ایک کالی عورت اپنے دو لڑکوں کے ساتھ آتی نظر آئی۔ دونوں لڑکوں نے کالی جیکٹیں پہن رکھی تھیں اور اکڑ اکڑ کر چل رہے تھے، جیسے فلمی ہیرو چلتے ہیں۔ مجھے یہ منظر بڑا دلچسپ لگا۔ پہلے وہ عورت ایک سڑک کی طرف مڑی اور آنکھوں سے اوجھل ہو گئی، تھوڑی دیر بعد واپس آئی اور دوسری سڑک کی طرف مڑ گئی۔ آگے سے ایک نوجوان جوڑا، ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں چلے آ رہا تھا۔ اس عورت نے انھیں روکا اور لڑکی سے کوئی بات چیت کی، پہلے میں سمجھا شاید راستہ پوچھ رہی ہے لیکن تھوڑی ہی دیر میں دیکھا کہ وہ لڑکی اپنے پرس سے کچھ پیسے نکال کر اسے دے رہی ہے۔ مجھے دور سے اندازہ تو نہیں ہوا کہ کتنے پیسے تھے مگر تھا کوئی نوٹ ہی، ایک ڈالر سے کم کی بھیک تو نہیں ہو گی۔ میں کافی دیر تک یہی سوچتا رہا کہ اس عورت نے لڑکی سے کیا اور کس طرح بات کی ہو گی کہ لڑکی نے آرام سے اسے اتنے پیسے دے دیے۔ ایک ڈالر کوئی کم تو نہیں ہوتا، دنیا کی آدھی آبادی کی آمدنی ایک ڈالر یومیہ یا اس سے بھی کم ہے۔ ہو سکتا ہے اس نے بھی یہی کہا ہو کہ ایک ڈالر دے دو، ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔!

ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی وہ اس بھکارن کے لڑکوں کا رویہ تھا۔ بھیک ملنے کے بعد بھی ان کی اکڑ بازی ویسی ہی تھی جیسے پہلے تھی۔ اس عورت نے یقیناً اپنے بچوں کو تربیت کی غرض سے اپنے ساتھ لگایا ہوا ہو گا کہ وہ بھی اس پیشے کی اونچ نیچ سمجھ جائیں لیکن شاید ان لڑکوں کا ارادہ بھکاری بننے کی بجائے کسی دوسرے اور بڑے عہدے پر پہنچنے کا تھا۔ امریکہ میں تو ایسے حالات ہو سکتے ہیں کہ لوگ اپنے جدی پشتی پیشے کو ترک کر کے کوئی دوسرا پیشہ اپنا لیں لیکن ہمارے ہاں ابھی خاندانی پیشہ اپنانے کا رواج موجود ہے۔ دوسرے لوگوں کی طرح بھکاری بھی اپنی اگلی نسلوں تک اپنا پیشہ پہنچاتے ہیں۔ ان کے بچے پیدا ہوتے ہی اس کام سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح گود سے لے کر گور تک یہ کام کیے جاتے ہیں۔ فقیروں کے جو مستقل اڈے ہوتے ہیں وہ ان کے بچوں کو وراثت میں مل جاتے ہیں۔ مجھے یہ تو علم نہیں ہے کہ ان کے ہاں وراثت کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہو گی، لیکن اتنا یقین ہے کہ ان کی لڑکیاں اپنے حقِ وراثت سے محروم نہیں ہوتی ہونگی جس طرح ہمارے ہاں شرفاء کی لڑکیاں ہوتی ہیں۔

فقیروں کے پاس بھیک مانگنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ اور ہر طریقے کے پیچھے کوئی نہ کوئی اصول کارفرما ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فقیروں کی لوگوں کی نفسیات پر بھی گہری نظر ہوتی ہے۔ انھیں پتہ ہوتا ہے کہ کس قسم کے لوگوں سے کس طرح مانگنا ہے۔

ایک دن کا ذکر ہے کہ میں آئی۔ایم۔ایف کے دفتر سے واپس آ رہا تھا کہ ایک گوری نظر آئی۔ اس نے ایک بڑا سا گتہ اپنے آگے رکھا ہوا تھا۔ اس پر لکھا تھا ‘میرا شوہر فوت ہو گیا ہے، میں اب فٹ پاتھ پر سوتی ہوں، میری مدد کریں’۔ پاکستان کے فقیر بھی یہ ٹیکنیک اکثر استعمال کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بار بار زبان نہیں ہلانی پڑتی اور اگر تحریر مؤثر ہو تو خیرات بھی زیادہ ملتی ہے۔ ایک دفعہ ایک اور فقیرنی بھی اس طریقے سے بھیک مانگتے نظر آئی۔ وہ بھی گوری تھی۔ اس نے کتبہ اٹھایا ہوا تھا کہ ‘میری نوکری چلی گئی ہے، میں اب بے روزگار ہوں، براہِ کرم میری مدد کرتے جائیں’۔ یہ دونوں فقیرنیاں کسی چرچ کے باہر نہیں کھڑی تھیں، بلکہ آئی۔ایم۔ایف کے قریب والے چوک پر نظر آئیں۔ پہلے میرا خیال تھا انھیں یہاں کس نے خیرات دینی ہے مگر جب ان کے کتبوں پر غور کیا تو ساری بات سمجھ آ گئی۔ امریکہ میں یہ دو ہی تو بڑے مسئلے ہیں شوہر کا چھوڑ جانا اور نوکری کا چلے جانا۔ جو لوگ ان دو مسئلوں کا شکار ہوتے ہیں امریکی شاید ان پہ زیادہ رحم کھاتے ہیں۔ امریکہ میں ہمارے ملک کی طرح پکی نوکریاں تو ملتی نہیں ہیں جو عمر بھر ساتھ نبھائیں، اس لئے بہت سے لوگ نوکری چلے جانے کے خوف کا شکار رہتے ہیں۔ دوسری طرف شوہر کی بے وفائی کے خوف نے بھی امریکی عورتوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

ایک اور دن کی روداد ہے کہ میں حسبِ معمول اپنے کمرے سے باہر دیکھ رہا تھا کہ ایک کالی عورت میرے اپارٹمنٹ کی کھڑکی کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔ وہ ہر آنے جانے والے کے آگے ہاتھ پھیلا دیتی تھی۔ کوئی آدھ گھنٹہ بیٹھی رہی مگر کسی نے اسے بھیک نہ دی۔ آخر وہ اٹھ کر سڑک کی دوسری طرف چلی گئی، وہاں ایک کالا آدمی گاڑی میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ فقیرنی گاڑی میں بیٹھی اور آگے روانہ ہو گئی، اب شاید وہ آدمی اسے کسی اور اڈے پر جا بٹھائے گا۔ اس پر مجھے شاہ دولہ کے چوہے یاد آ گئے جنھیں اسی طرح ایک ٹھیکیدار گجرات کے مختلف اڈوں پر بھیک مانگنے کیلئے چھوڑتا ہے۔ اس کا مطلب ہے فقیروں میں ٹھیکیداری نظام یہاں بھی چلتا ہے۔ لیکن کیا پاکستان کی طرح ٹھیکیداری میں فقیری نظام بھی امریکہ میں چلتا ہے؟ یہ جاننے کیلئے شاید مجھے امریکہ میں ایک چلہ اور لگانا پڑے، اس چلے میں تو نظر نہیں آیا۔ پاکستان میں تو یہ نظام اتنا اظہر ہے کہ ویسے ہی نظر آ جاتا ہے۔ یہاں تو کوئی سڑک، کوئی پل، حتیٰ کہ کسی ہسپتال اور اسکول کی عمارت بھی اس وقت تک نہیں بن سکتی جب تک کہ سرکاری افسر ٹھیکیدار سے اپنا حصہ نہ وصول کر لے۔ کوئی حصہ مانگے، بھتہ مانگے یا بھیک، ہیں تو سب گداگر۔

گداگری بھی ایک طرح کی سوداگری ہے، اور لین دین کے سب حربے یہاں بھی چلتے ہیں۔ اگرچہ کچھ فقیر ایسے بھی دکھائی دیتے ہیں جو مفت دعائیں دیتے ہیں۔ اور یہ صدا بھی اکثر سنائی دیتی ہے کہ ‘جودے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا’۔ لیکن اگر تھوڑا سا غور کریں تو یہ اصل میں فقیروں کی ایک چال ہوتی ہے، اپنی سیل (sale) بڑھانے کی۔ بالکل اسی طرح جس طرح بہت سے دکاندار سیل لگاتے ہیں اور اپنی دکان کے آگے ایک تختی پر لکھ رکھتے ہیں کہ ’ایک لیں اور دوسرا مفت‘۔ اسی طرح کچھ ڈاکٹر بھی ایسے ہوتے ہیں جو مہینے میں ایک دن مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں۔ نہ تو دکاندار شوقِ سخاوت کے تحت ایسا کرتے ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر جذبۂ خدمت کے تحت، یہ سب اصل میں کاروباری داؤ پیچ ہیں۔ فقیروں کا اپنا کاروبار ہے اور ان کے اپنے داؤ پیچ ہیں۔ اس دنیا میں ہر بندہ جو کاروبار کرتا ہے، وہ اپنے گاہکوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ اور فقیر تو اپنے گاہکوں کو خوب پہچانتے ہیں۔ وہ بعض اوقات ایسی صدائیں لگاتے ہیں کہ بڑے بڑے عاقل اور دانا بھی انھیں بھیک دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جو نہیں دیتے وہ دل میں سوچتے ضرور ہیں کہ فقیر کو خالی ہاتھ لوٹا کے کہیں ہم نے غلط تو نہیں کیا۔

پاکستان میں اگر ہم گھر سے باہر نکلیں تو شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں بھیک مانگنے والوں سے واسطہ نہ پڑے۔ لیکن یہاں ایک آسانی ہے کہ اگر ہم کسی فقیر کو بھیک نہ دینا چاہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ’بھائی معاف کرو‘ اور کبھی ڈانٹ بھی دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کے فقیر بھی اس کا برا نہیں مانتے۔ مگر امریکی فقیروں کو ایسا کہنے کی غلطی کوئی نہیں کرتا۔ اگر کوئی انھیں بھیک نہیں دیتا تو وہ خود لے لیتے ہیں۔

Note: This article was first published in Urdu Digest in 2005

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x