ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہونے والے لوگ

فاروق عاربی

انسانی زندگی کے تین اہم ادوار ہوتے ہیں: بچپن کا زمانہ، جب انسان کی شخصیت بن رہی ہوتی ہے؛ جوانی کے سہانے دن، جب بہت سے الٹے سیدھے کام کرنے کو دل چاہتا ہے، اور ادھیڑ عمر کے ماہ و سال، جب انسان کی طبیعت میں کچھ ٹھہراؤ آتا ہے اور وہ دنیا کو بالغ نظری سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں جو لوگ ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہوئے، ان کی عمر کے یہ تینوں ادوار مارشل لا کے سائے میں گزرے ہیں۔

اس دہائی کے وسط (یعنی سن 1965) میں ہمارے ملک کی اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ جنگ ہوئی۔ بچوں، بڑوں، مردوں اور عورتوں، سبھی میں حُب الوطنی کا ایک بے پناہ جذبہ ابھر آیا تھا۔ چند دنوں بعد جنگ ختم ہو گئی لیکن سب لوگ بہت پرجوش تھے کہ پاک فوج نے دشمن کو بھرپور جواب دیا۔ یہ اور بات ہے کہ ہمیں بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ جنگ ہم نے جیتی نہیں تھی۔ پھر جب یہ نسل ذرا بڑی ہوئی اور گھر میں کھیلنے کودنے کی عمر کو پہنچی، تو ایک دن اچانک بڑے بزرگوں نے اعلان کیا کہ رات کو روشنی نہیں جلائی جائے گی۔ کمروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیے گئے، حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی درزوں پر بھی کاغذ چپکا دیے گئے تاکہ ایک مکمل بلیک آؤٹ ہو جائے اور کہیں سے بھی روشنی اندر نہ آ سکے۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ اسی بلیک آؤٹ کے دوران ہمارا آدھا ملک ہم سے جدا ہو گیا تھا۔

ستر کی دہائی میں ہم لوگ ذرا اور بڑے ہو چکے تھے اور گلی محلے میں کھیلنے جانے لگے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جمہوریت اور آزادی کا دور تھا۔ اس دور کی جمہوریت کے کیا مزے تھے، یہ تو ہمیں یاد نہیں ہے لیکن میں اپنی بات کروں تو میرا اور میرے بچپن کے ساتھیوں کا اس دور میں سخت معاشی نقصان ہوا تھا، جو اب تک یاد ہے کیونکہ ہماری آمدنی کا واحد ذریعہ بند ہو گیا تھا۔

تفصیل اس نقصان کی یہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک سرخ داڑھی والے بزرگ رہتے تھے۔ ان کا معمول یہ تھا کہ جب وہ گھر سے باہر نکلتے تو گلی میں جو بچہ انہیں سلام کرتا، وہ اسے دس پیسے کا سکہ دیتے تھے۔ لہٰذا ہم بچے روزانہ راستے میں کھڑے ہو جاتے اور ان کا انتظار کرتے۔ جونہی وہ آتے، سب انہیں سلام کرتے اور انعام پاتے۔ شاید اسی طرح ہمارے اندر سلام کرنے کی عادت پیدا ہوئی تھی۔ لیکن ہوا یوں کہ وہ بابا جی 1974 یا 1975 میں ہمارا محلہ چھوڑ کر چلے گئے اور یوں ہمیں پیسے ملنے بھی بند ہو گئے۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ صرف محلہ ہی نہیں بلکہ ہمارا شہر بھی چھوڑ گئے تھے اور ربوہ جا بسے تھے۔

اُن کے جانے کے بعد کتنے ہی داڑھی والے بابوں کو سلام کیا لیکن کسی نے ہاتھ پر پیسے نہ رکھے۔ خیر، ہم بچوں کا معاشی نقصان جو ہوا سو ہوا، اس زمانے کے حاکم کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت کا بھی بیڑا غرق ہوا تھا۔ 1970 کی یہ دہائی جب ختم ہورہی تھی اس وقت ہم بچپن سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے لگے تھے اور خوش تھے کہ اب آگے ہمارے دن سہانے اور راتیں مستانی ہوں گی، مگر بقول منیر نیازی:

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو؛ میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا۔

ایک بار پھر مارشل لا نے ہمیں اپنی نگرانی میں لے لیا؛ اور اس بات کا خاص خیال رکھا کہ یہ جوان نسل گمراہ نہ ہونے پائے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ایک بار پھر ہمارے پڑوس میں جنگ چھڑ گئی، یعنی اب پھر حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اب کی بار یہ جنگ مغربی سرحدوں پر تھی۔ ہماری نسل کے نوجوان اس جنگ میں بڑے جوش و جذبے سے شریک ہو گئے؛ اور کیوں نہ ہوتے؟ ایک تو ویسے ہی جوانی کا زور تھا اور دوسرا ہمارے اندر جذبۂ جہاد ابھارنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تھے۔ اسکولوں اور کالجوں میں خصوصی پروگرام، جمعہ کے خطبات، اخبارات میں بڑے بڑے دانشوروں کے کالم، ٹی وی کے پروگرام، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے خطابات، غرض چاروں طرف سے ایک یلغار تھی جو ذہنوں کو متاثر کر رہی تھی اور ہمیں بتایا جا رہا تھا کہ اسلام اور پاکستان کو سخت خطرہ درپیش ہے۔ ایسے میں دین اور وطن کے لیے جان کی قربانی بھی دینی پڑے تو سودا مہنگا نہیں۔ یہ تو خیر ہمیں بہت بعد میں پتہ چلا کہ جوانوں میں جذبۂ جہاد ابھارنے اور اسلام کو بچانے کے لیے جو سرمایہ استعمال ہوا، وہ ایک غیر اسلامی ملک سے آیا تھا۔ بلکہ اس ’نیک کام‘ کے لیے بہت سے ماہرین بھی دور کے دیس سے آئے تھے۔

جب اس جنگ کے مقاصد پورے ہو گئے تو ہم نے اپنے آپ کو ایسے پایا جیسے کوڑے دان میں استعمال شدہ ٹشو پیپر۔ ہماری نسل کے جوانی کے یہ دس سال ‘مردِ مومن، مردِ حق’ کے نعرے لگاتے گزر گئے؛ نہ کوئی ہنر سیکھا (سوائے بندوق چلانے کے) اور نہ ہی فرصتِ گناہ ملی۔

اس کے بعد ہم پہنچے نوے کی دہائی میں، جو دو پارٹیوں کے درمیان پنڈولم کی طرح جھولتے ہوئے گزری۔ اس دور میں بھی ہم سے کوئی کام تسلی سے نہ ہوا۔ معاشی، معاشرتی اور سیاسی، ہر لحاظ سے یہ دس سال بھی اس قوم کے ضائع گئے۔ پھر جب ہم چالیس کے پیٹے میں آئے اور بڑے خوش تھے کہ نئی صدی اور نئے میلینیم میں داخل ہو رہے ہیں، تو ایک بار پھر مارشل لا ہمارے سر پر چھا گیا۔ یہ سب سے خطرناک مارشل لا تھا جس میں اپنے ہی لوگوں کو اٹھا لینے، مار ڈالنے یا غائب کر دینے کا رواج آیا، وہ بھی ملکی سلامتی کی خاطر۔

اب جب معاملہ ملکی سلامتی کا ہو تو پھر کیا بالغ فکری اور کون سی بالغ نظری! ایسے حالات میں کون اپنی آزاد مرضی سے بول سکتا ہے یا آزاد مرضی سے سوچ سکتا ہے۔ اور اب جب کہ ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہونے والے لوگ خود ساٹھ کے پیٹے (یعنی عمر کی ساٹھویں دہائی) میں ہیں، تو ڈر یہی لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر اُسی منظر کا سامنا نہ ہو جائے جس سے زندگی کا آغاز کیا تھا۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x