قراردادِ مقاصِد ۔ ایک بہترین آئینی بنیاد

محمد فاروق عاربی

قراردادِ مقاصد نظریۂ پاکستان کے عین مطابق اور پاکستان کی اکثریت کی امنگوں کی ترجمان ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، کوئی معروف معنی میں مذہبی ریاست (Theocratic state) نہیں۔ اس قرارداد کے ذریعے یہ طے کردیا گیا کہ ریاست اپنی طاقت منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ قرارداد ملک کے اندر رہنے والے تمام لوگوں کے بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت بھی دیتی ہے۔

البتہ کچھ لوگوں کو اس پر یہ عتراض ہے کہ اس قرارداد نے ریاست کا ایک مذہب طے کر دیا ہے، جس نے پاکستان کو ایک مذہبی ریاست بنا دیا ہے، اور اپنی عوام کے حوالے سے اس کی غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے۔ آئینی طور پر کسی مذہب کو ریاست کا مذہب قرار دینا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ انگلینڈ کا آئینی نظام چرچ آف انگلینڈ کو ریاست کا سرکاری چرچ قرار دیتا ہے۔ تختِ برطانیہ صرف پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کے لیے مخصوص ہے۔ حتی کہ چند ہی سال پہلے تک یہ قانون بھی تھا کہ اگر کوئی برطانوی شہزادہ کیتھولک مذہب کی خاتون سے شادی کر لے تو وہ جانشینی کے حق سے محروم ہو جائے گا۔ اسی طرح ڈنمارک اور کچھ اور یورپی ملکوں کا آئین بھی عیسائیت کو ریاست کا مذہب قرار دیتا ہے مگر کوئی ان ملکوں کو ناپسندیدہ مذہبی ریاست نہیں کہتا؛ یہ مہربانی صرف پاکستان کے ساتھ کی جاتی ہے۔

امریکہ کا آئین مکمل طور پر سیکولر ہے، لیکن اب تک آنے والے بہت سے امریکی صدور نے بائبل پرہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی قانونی یا آئینی ضرورت نہیں ہے مگر ایک مذہبی اور ثقافتی علامت کے طور پر اورملک میں آبادی کے بڑے حصے کے عیسائی پس منظر میں عوامی اہمیت ضرور رکھتی ہے۔

تو ایک بات واضح ہے کہ آئینی طور پر یا روایتاً مذہب کا ریاست میں کردار آج کے اس جدید دور میں بھی موجود ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کوئی پتھر کے زمانے میں نہیں رہ رہا۔ پاکستان کی ریاست کا مذہب اسلام ہے اور صدرِ پاکستان کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ہے تو یہ اس ملک میں رہنے والی اکثریت کی خواہشات کے مطابق ہے۔

ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرادِ مقاصد نظریۂ پاکستان کے خلاف ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا لازمی ہے کہ نظریۂ پاکستان کیا ہے۔ مؤرخین، مفکرین اور دانشور اپنی اپنی ترجیحات وتصورات کے زیرِ اثر جو بھی کہیں، برصغیر کے عام مسلمانوں کے لیے 1940 کی دہائی سے لے کر آج تک پاکستان کا ایک ہی نظریہ ہے کہ ان کا اپنا ملک جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ قائدِ اعظم نے پاکستان کا مطالبہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہی کیا تھا۔ قائدِاعظم کا موقف بالکل واضح تھا کہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کی حکمرانی کے تحت مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ موقف اُس وقت کے کانگریسی رہنماؤں کے رویّے کی بنیاد پر تھا۔ مسلمانوں کے وہ کون سے مفادات ہیں جو ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے مختلف ہیں؟ بحیثیت انسان تو سب کے مفادات ایک جیسے ہیں۔ فرق تو مذہب اسلام کے حوالے سے ہی ہے۔

پاکستان کا قیام تھا ہی اس غرض کے لیے کہ ایک ایسا ملک ہو جہاں مسلمان اپنی خواہشات اور مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں؛ اور قراردادِ مقاصد مسلمانوں کی خواہشات اور مرضی کے مطابق ہے۔ پارلیمنٹ لوگوں کی نمائندہ ہوتی ہے جو عوام کی مرضی کی عکاسی کرتی ہے۔ اُس وقت کی پارلیمنٹ، جو اُس وقت کے قانون کے تحت ہی قائم ہوئی تھی، نے قراردادِ مقاصد پاس کی تھی۔ اور شاید وہ پاکستان کی واحد پارلیمنٹ تھی جس پر کسی آمر کا اثر نہیں تھا۔ حتی کہ قائدِ اعظم بھی قراردادِ مقاصد سے پہلے فوت ہو چکے تھے ورنہ لوگ کہتے کہ فردِ واحد کے زیراثر پارلیمنٹ نے یہ قرارداد پاس کی۔ ایک طرف ہم اپنے آپ کو جمہوریت پسند بھی کہیں اور دوسری طرف ایک جمہوری عمل پر اعتراض بھی کریں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ آئین ساز اسمبلی کے 7 سے 12 مارچ 1949 کے دوران ہونے والے اجلاس، جس میں قراردادِ مقاصد پیش اور منظور ہوئی، میں ممبران کی بحث کو پڑھ لیں تو اقلیتوں کی حیثیت اور حقوق سمیت سب سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ اِسی اجلاس میں سر ظفر اللہ خان کی تقریر پڑھ لیں تو ان لوگوں کو بھی تسلی بخش جواب مل جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ سیاست اور مذہب الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس قرارداد کی مخالفت صرف کانگریس سے تعلق رکھنے والے چند ممبران نے کی تھی۔ کانگریسی ممبران نے اس سے پہلے، 12 اگست 1947 کے اجلاس میں، محمد علی جناح کو قائدِ اعظم کا خطاب دینے کی قرارداد کی بھی مخالفت کی تھی کیونکہ ان کے نزدیک نہرو بڑا قائد تھا، جناح نہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قراردادِ مقاصد کے پیچھے مولانا مودودی کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ مولانا کا کردار صرف اتنا ہے کہ انھوں نے اپنے موقف کے لیے ایک مدلل اور مؤثر مہم چلائی تھی۔ اُس وقت کے سیکولر فکر کے حامل لوگ بھی اپنی رائے بھرپور طریقے سے دے رہے تھے۔ لیکن آخر کار فیصلہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں ہی ہوا، جس میں کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی ممبران نے بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا تھا۔

جب قرارداد مقاصد کے خلاف لوگوں کو کچھ نہیں ملتا تو وہ قائدِ اعظم کے 11 اگست کی تقریر کا حوالہ لے آتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر وہ قائد کی پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں کی گئی بے شمار تقریروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کیا قائدِ اعظم کا ما فی الضمیر صرف 11 اگست کوہی سامنے آیا؟ پہلے اور بعد میں وہ اپنی سوچ کے برعکس بات کرتے رہے؟ ایسا سمجھنا قائدِ اعظم ایسی شخصیت کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اور پھراُن کی ایک تقریر کے دو جملے اٹھا کر ایک جگہ لکھ لینا اورسیاق و سباق سے ہٹ کر انھیں آئین سازی کے لیے پالیسی بیان قرار دینا محض دُور کی کوڑی لانا ہے۔ اِسی تقریرمیں انھوں نے مسلمانوں میں پٹھان، پنجابی، شیعہ، سنی، اور ہندوؤں میں برہمن، ویشنوی، کھتری، بنگالی، مدراسی وغیرہ کی تقسیم کا ذکر بھی کیا اور فرمایا کہ یہ سب فرق وقت کے ساتھ مٹ جائیں گے۔ اِسی تقریر میں انھوں نے انگلینڈ کی مثال بھی دی کہ کس طرح وہاں کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ کے درمیان شدید اختلافات ہوا کرتے تھے، مگر اب ویسی صورتحال نہیں ہے۔ پوری تقریر میں انھوں نے ایسا کوئی تأثر نہیں دیا کہ وہ آئین کے لیے کوئی راہنما ہدایات دے رہے ہیں۔ بلکہ وہ اقلیتوں کی دلجوئی اور نوزائدہ مملکت کے مستقبل کا ایک نقشہ بیان کر رہے تھے جو کہ ایک بڑے لیڈر کا منصب ہے۔

قائدِ اعظم کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے، اس حوالے سے لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی گواہی کسی اور دانشور یا محقق کی تحقیق سے زیادہ معتبر ہے۔ مارچ 1949 کے اُسی اجلاس کے دوران جس میں قراردادِ مقاصد پاس ہوئی، اِن دونوں حضرات نے اپنی تقریروں میں واضح طور پر کہا کہ قائدِ اعظم کے سامنے ایک ایسے پاکستان کا نقشہ تھا جہاں اس خطے میں رہنے والے مسلمان اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔

آخری بات، قائدِ اعظم کے بارے میں عرض ہے کہ اُن کے برِصغیر کے مسلمانوں پر بہت احسانات ہیں، اُنھیں قائدِ اعظم ہی رہنے دیا جائے۔ مسلم قوم پرست، اسلام پرست، سیکولر یا اور کوئی لیبل ان کی ذات پر لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

نوٹ: اس مضمون کا ایک ابتدائی ورژن آن لائن میگزین ’ہم سب‘ میں 18 اگست 2025 کو شائع ہوا تھا۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x