محمد فاروق عاربی
’اگر اتنا ہی شوق ہے تو آؤ، تم مردان کے کسی بھی ایک چھوٹے سے حلقے سے کونسلر کا الیکشن لڑ کے دکھاؤ۔ اگر تم جیت گئے تو میری تاریخِ پیدائش بدل دینا۔‘
سلطان خان کے فیس بک پیج پر یہ پوسٹ پڑھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ وہ کسے چیلنج دے رہے ہیں۔ پہلے میں سمجھا کہ شاید اس کا اشارہ میری طرف ہے۔ وہ اکثر اس طرح کے پیغامات نشر کرتا رہتا ہے۔ پھر خیال آیا کہ میرا تو مردان سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔ کہاں کراچی، کہاں مردان! سلطان خان کو بھی یہ بات پتا ہے، وہ مجھے اس طرح چیلنج کیوں دے گا؟ پھر آخر اس پوسٹ کا مطلب کیا ہے؟ کیا حلقۂ یاراں میں کوئی ایسی بات ہوئی ہے جس پر طیش میں آ کر خان صاحب نے کسی یارِ خاص کو یہ کھلا چیلنج دے دیا ہے؟
سلطان سے میری دوستی کوئی بیس بائیس سال پرانی ہے، جب میں کراچی میں نیا نیا آیا تھا۔ اس سے میری ملاقات لائٹ ہاؤس میں ہوئی تھی، جہاں میں پہلی بار اپنے دفتر کے ایک ساتھی کے ہمراہ جوتا خریدنے کے لیے گیا تھا۔ مختلف ٹھیلوں اور دکانوں میں جوتے دیکھنے اور قیمتوں کا اندازہ کرنے کے بعد ہم ایک صاف ستھری اور آراستہ و پیراستہ دکان کے اندر چلے گئے، جہاں سلطان خان نے ہمارا استقبال کیا۔ اس نے جس طریقے سے مختلف جوتوں اور بوٹوں کی اقسام، بناوٹ، برانڈز اور دیگر تفصیلات بتائیں، وہ ہمارے لیے ایک خوشگوار حیرت کا باعث تھیں۔ باتوں باتوں میں پتا چلا کہ موصوف ایک پڑھا لکھا پٹھان ہے۔ پشاور یونیورسٹی سے 1988ء میں پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا تھا۔ نوکری نہیں ملی تو کراچی آ گیا۔ کچھ سال کی محنت کے بعد اپنی بوٹوں کی دکان بنا لی۔

ایم اے سیاسیات اور بوٹوں کی دکان، ہمیں کافی حیرت ہوئی تھی، مگر جب اس نے اپنے مخصوص پٹھانی لہجے میں سیاست اور بوٹوں کے درمیان تعلق کے تاریخی حوالے دیے تو مزہ ہی آ گیا۔ اُس دن سے سلطان کے ساتھ بہت اچھی دوستی ہو گئی اور اس کی دکان پر اکثر آنا جانا شروع ہو گیا۔ اب چھ سات سال ہو گئے ہیں، وہ خود واپس مردان چلا گیا ہے اور دکان اس کے بیٹے چلا رہے ہیں۔ اگرچہ اس کے ساتھ فون پر ہمیشہ رابطہ رہا، لیکن اس رابطے میں زیادہ گرمجوشی پچھلے دو تین سالوں میں فیس بک کے ذریعے آئی ہے۔ وہ خود بھی فیس بک پر بہت سرگرم ہے، اکثر کوئی نہ کوئی پوسٹ کی ہوئی ہوتی ہے، اور میری بھی ہر پوسٹ اور مضمون پر اپنا تبصرہ کرنا فرض سمجھتا ہے۔
ایک بار میں نے اس کے محبوب راہنما پر تنقید کر دی تھی، جو اسے شاید بری لگی تھی۔ اس نے جواب میں بہت لمبا چوڑا تبصرہ کیا تھا، جو مجھے پسند آیا تھا۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر اس کا انداز ہمیشہ کی طرح بہت شاندار تھا۔ اس کے بعد سے اس نے کئی ایسی پوسٹیں بھی لکھیں جن کا براہِ راست مخاطب میں تھا۔ اُس کی اِس تازہ پوسٹ کو پڑھ کر بھی یہی لگا کہ شاید مجھے چیلنج کر رہا ہے۔
پہلے میں نے سوچا کہ سلطان سے پوچھ ہی لوں، ماجرا کیا ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ ذرا دوسروں کے کمنٹس دیکھوں کہ لوگ اس پر کیا کہہ رہے ہیں۔ نیچے کمنٹس کے سیکشن میں جب گیا تو وہاں اس پوسٹ پر سینکڑوں کمنٹس اور بے شمار لائکس نظر آئے۔ اُن سے اندازہ ہو گیا کہ کس سے الجھ گیا ہے خان!
#microfiction
#Urdu


Leave a Reply