محمد فاروق عاربی
بانیِ پاکستان سے منسوب ایک جملہ اکثر پڑھنے کو ملتا ہے کہ ہم پاکستان کا مطالبہ اس لیے نہیں کر رہے کہ محض زمین کا ایک ٹکڑا لے لیں، بلکہ ہم ایک ایسی لیبارٹری چاہتے ہیں جہاں ہم اسلام کے اصولوں پر تجربات کر سکیں۔ لہٰذا اس فرمان کی روشنی میں ہم نے اپنے ملک کو واقعی ایک تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ مگر صرف اسلام کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کے ہر اہم شعبے کی تجربہ گاہ!
سیاست کے میدان میں جمہوریت، نیم جمہوریت، صدارتی نظام، پارلیمانی نظام، فوجی مارشل لاء، سول مارشل لاء، آئین میں آٹھویں اور اٹھارویں ترمیم اور اب ’ہائبرڈ نظام‘ جیسے تجربات کیے گئے۔ سماجی نظام پر کہیں آزاد روی کا رنگ چڑھایا، کہیں مذہبی لبادہ اوڑھا اور کہیں اِن دونوں کے بیچ اٹک کے رہ گئے۔ لیکن سب سے خطرناک تجربات ہم نے معاشی نظام میں کیے ہیں، جو تقریباً سارے ہی ناکام ہوئے۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ہر پالیسی تجربہ اپنی اصل میں غلط تھا؛ مسئلہ یہ تھا کہ ہر پالیسی کو کمزور اداروں، جلد بازی، سیاسی مداخلت، اور غیر واضح احتساب کے ماحول میں نافذ کیا گیا۔ اس مضمون میں ان تجربات کا ایک مختصر جائزہ پیشِ خدمت ہے۔

ہمارے ملک کے پہلے وزیرِ خزانہ، جو پیشہ ورانہ طور پر ایک اکاؤنٹنٹ تھے، ہمارے لیے سوشلزم سے متاثرہ ماڈل لائے۔ انھوں نے پہلا معاشی منصوبہ بنایا، جو محض کاغذوں کا ایک پلندہ ثابت ہوا۔ یہ منصوبہ نہ تو اس وقت کے ملکی وسائل کے مطابق تھا اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کے لیے افرادی قوت دستیاب تھی۔ لیکن جو نظریاتی بنیاد اس منصوبے نے فراہم کی، آگے آنے والے تمام منصوبے اس سے باہر نہ نکل سکے۔ وہ بنیاد تھی: مراعات کی معیشت! آج بھی ملک کی اشرافیہ مراعات سے مستفید ہو رہی ہے۔
مراعات کے اس سلسلے کا آغاز صنعتکاری کے لیے پُرکشش پالیسیوں سے ہوا تھا۔ ابتدائی زمانے میں پاکستان کی صنعتی بنیاد بہت کمزور تھی، اس لیے انھیں مراعات دینا وقت کی ایک ضرورت تھی۔ سازگار پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں بہت سے چھوٹے بڑے کارخانے لگنا شروع ہو گئے تھے اور لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری آنا شروع ہو گئی۔ اسی دور میں کوریا کی جنگ سے بھی پاکستان کو بہت فائدہ ہوا۔ جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں کپاس اور پٹ سن جیسے خام مال کی قیمتیں بڑھ گئیں جس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا اور ملک میں سرمائے کی آمد بڑھی۔
دوسری طرف زرِ مبادلہ کی شرح نے بھی تاجروں اور صنعتکاروں کو ہی فائدہ پہنچایا۔ لوگوں کی اکثریت کو، جو کہ زراعت سے وابستہ تھی، اس وقت کی معاشی پالیسیوں سے کوئی فیض نہ پہنچ سکا۔ خصوصاً مشرقی پاکستان کے لوگ ترقی سے محروم رہے۔ مغربی پاکستان میں بھی چند امیر گھرانوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
ملک میں باقاعدہ معاشی منصوبہ بندی کا آغاز 1955 میں ہوا، جب پلاننگ کمیشن کے پہلے سربراہ جناب ناصر حسین (جو اس سے پہلے سٹیٹ بینک کے گورنر رہ چکے تھے) نے اپنا پانچ سالہ منصوبہ پیش کیا۔ یہی وہ منصوبہ ہے جس کے بارے میں ایک دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا نے اسے اپنا کر اپنی تقدیر بدل لی، مگر ہم وہیں کے وہیں رہے۔ ہمارے منصوبے اور پالیسیاں شاید غلط نہیں تھیں مگر ان پر عمل درآمد میں خرابی ہوئی، جس کے نتیجے میں جو تھوڑی بہت صنعتکاری ہوئی وہ مسابقتی ہونے کے بجائے نااہل (Inefficient) رہی۔ کاروباری طبقے میں محنت کے بجائے حکومتی مراعات کے ذریعے دولت بنانے یعنی ’رینٹ سیکنگ‘ کے رویے نے جنم لیا، جس سے دولت کی تقسیم انتہائی غیر منصفانہ ہوگئی۔
1970 کی دہائی میں ہم نے معاشی ناہمواری کے اس مسئلے کو حل کرنے کا سوچا اور نیشنلائزیشن کا تجربہ کیا۔ نئے نظام کے تحت تمام صنعتوں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ اب ہماری صنعتیں بھی ہمارے بیوروکریٹ چلانے لگے۔ حکومت نے اپنی سرپرستی میں بڑی بڑی صنعتیں لگائیں۔ غریبوں کو روزگار ملنے شروع ہوئے۔ مزدوروں کو طاقت ملی۔ اور لوگوں نے سوچا کہ بس اب پاکستان کے دن پھرنے والے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ تجربہ بھی ناکام ہوا۔ سرکاری ملازمین صنعتیں اور کاروبار نہ چلا سکے، لہٰذا قومیائی گئی صنعتیں خسارے کا شکار ہو کر ’سفید ہاتھی‘ بن گئیں۔ جو تجربہ کار صنعتکار اور سرمایہ دار تھے وہ اکثر ملک چھوڑ گئے اور معاشی ترقی کا پہیہ الٹا چلنا شروع ہو گیا۔
مگر قدرت ہم پر مہربان تھی جس نے ہمیں ایک اور موقع دیا۔ 1970 کی دہائی ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ ایک اور جنگ ہمارے فائدے کے لیے چھِڑ گئی۔ اور اس جنگ کا میدان کوریا جیسا دور دراز مُلک نہیں بلکہ ہمارا پڑوسی ملک، افغانستان تھا۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے افغان جنگ کے ذریعے پاکستانی معیشت کو ایک اہم سہارا مل گیا۔ بیرونی امداد، ترسیلات اور اسٹریٹجک رقوم نے وقتی طور پر ملک کو خوشحال کر دیا، مگر یہ خوشحالی پائیدار اصلاحات کا متبادل نہ بن سکی۔
1980 کی اس دہائی میں اسلامی معیشت اور بلا سود بینکاری کے تجربے کا بھی آغاز ہوا۔ لیکن ایک تو اس نظام کے لیے معاشرہ تیار نہیں تھا اور دوسرا اس نظام کو چلانے کے لیے اُس وقت مناسب افرادی صلاحیت کا بھی فقدان تھا۔ نتیجتاً ایک طویل عرصے تک اسلامی بینکاری میں خاطر خواہ ترقی نہ ہو سکی۔ لیکن اب کچھ سالوں سے اسلامی بینک خوب پھل پھول رہے ہیں، اگرچہ ان پر کچھ لوگوں کے شکوک و شبہات بھی ہیں۔
اس کے بعد آتا ہے 1990 کی دہائی کا جمہوری دور، جس میں معیشت کو نئے سرے سے اٹھانے اور پرانی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن مسئلہ یہ سامنے آ گیا کہ ہمارے پاس معاشی ماہرین ہی نہیں تھے۔ پچھلے تیس سال اس طرح سے گزرے تھے کہ قابل لوگ ملک چھوڑ کر باہر جا بسے تھے۔ پیچھے زیادہ تر اوسط صلاحیت کے حامل لوگ (mediocre) رہ گئے تھے۔ بیوروکریسی میں caliber نام کی چیز پہلے ہی غائب ہو چکی تھی۔ چنانچہ قابلیت کا ایک خوفناک خلا ہمارے سامنے تھا۔
اس خلا کو پُر کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ‘درآمد شدہ’ ماہرین منگوائے گئے۔ ان ماہرین نے ‘انٹرنیشنل بیسٹ پریکٹسز’ کے نام سے ایسا غُل مچایا کہ ہمیں اپنے زمینی حقائق اور مقامی حل بھول گئے۔ ہم پر بیک وقت درجنوں اصلاحات کا بوجھ لاد دیا گیا۔ کسی نے کہا جنرل سیلز ٹیکس لگاؤ، کسی نے کہا، نہیں، ویلیو ایڈڈ ٹیکس زیادہ مناسب ہے۔ کسی نے کہا بیوروکریسی کو ٹھیک کرو۔ کسی نے کہا گڈ گورننس لاؤ۔ کچھ ماہرین نے کہا کہ بینکوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دو، اور کچھ نے کہا ساری صنعتیں بیچ دو۔ غرض بھانت بھانت کے ماہرین اور بھانت بھانت کی پالیسیاں۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں۔
ہم نے ان ماہرین کے کہے پر ترتیب (Sequencing) کا خیال رکھے بغیر ایڈہاک بنیادوں پر کام کیا۔ نہ اپنے ملک کے مخصوص حالات دیکھے اور نہ معیشت کے ڈھانچے کو سمجھا، جس کے نتیجے میں معیشت آگے بڑھنے کے بجائے مزید الجھ گئی۔
اسی الجھی ہوئی معیشت کے ساتھ پاکستان نے اکیسویں صدی میں قدم رکھا۔ ایٹمی دھماکے ہم کر چکے تھے، مگر دنیا سے بھی کٹ چکے تھے۔ ایسے میں قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ افغانستان جنگ کا دوسرا دور شروع ہوگیا جس سے ایک بار پھر بیرونی سرمائے نے پاکستان کا رخ کیا اور ہماری ڈوبتی کشتی کو سہارا مل گیا۔ مگر افسوس کہ یہ وارے نیارے جلد ہی ختم ہو گئے، اور الٹا اس کے نتیجے میں ملک کو ایک لمبے عرصے کے لیے دہشت گردی کا عذاب سہنا پڑا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب ملک اور معیشت اس عذاب سے چھٹکارہ پا چکے ہیں، لیکن معاشی سمت کا طے ہونا ابھی باقی ہے۔
آج کئی دہائیوں بعد اور متعدد تجربات کے باوجود بھی پاکستان ملکوں کی معاشی درجہ بندی میں بہت نیچے ہے۔ اب بھی غربت بہت ہے اور دولت کی تقسیم انتہائی نامناسب ہے۔ بیرونی وسائل پر انحصار اب بھی ہے۔ ٹیکس کا نظام شرمناک حد تک پست ہے۔ صحت اور تعلیم اب بھی ناقص، اور ادارے ابھی بھی کمزور ہیں۔
ان حالات سے نکلنے کے لیے ہمیں ایڈہاکزم کو ترک کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو اب معاشی تجربات سے زیادہ معاشی تسلسل، ادارہ جاتی صلاحیت، مقامی حقائق پر مبنی اصلاحات، اور پالیسی کے احتساب کی ضرورت ہے۔ تجربہ کرنا غلط نہیں، مگر ہر چند سال بعد سمت بدل دینا قوموں کو آگے نہیں لے جاتا۔ اصل نااہلی یہ نہیں کہ ہم نے تجربات کیے؛ اصل نااہلی یہ ہے کہ ہم نے ان سے سیکھا نہیں۔


Leave a Reply