پرنسپل-ایجنٹ پرابلم کا شکار پاکستانی معیشت

محمد فاروق عاربی

پاکستان کی معیشت کو درپیش بہت سے مسائل کی جڑیں محض وسائل کی کمی، بیرونی قرضوں یا پالیسیوں کی غلطیوں میں نہیں بلکہ ایک اور گہرے مسئلے میں بھی پیوست ہیں جسے معاشیات اور سیاسیات کی زبان میں ’پرنسپل-ایجنٹ پرابلم‘ کہا جاتا ہے۔

آسان الفاظ میں، پرنسپل سے مراد عوام ہیں جبکہ ایجنٹ وہ لوگ اور ادارے ہیں جنھیں عوام اپنے معاملات چلانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اختیار سونپتے ہیں۔ ان میں سیاستدان، بیوروکریٹ، سرکاری ادارے، ریگولیٹری ادارے اور بعض اوقات منتخب نمائندوں کے ذریعے چلنے والے دیگر عوامی ادارے شامل ہوتے ہیں۔

پرنسپل-ایجنٹ پرابلم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایجنٹ اپنے پرنسپل یعنی عوام کے مفاد کے بجائے اپنے ذاتی، سیاسی یا گروہی مفادات کو ترجیح دینا شروع کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسی پالیسیاں وجود میں آتی ہیں جن سے چند مخصوص طبقات، کاروباری گروہ، سیاسی خاندان یا بااثر لابیاں فائدہ اٹھاتی ہیں جبکہ اس کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔

اس مسئلے کا ایک اہم پہلو معلومات کا عدم توازن ہے جسے معاشیات میں Asymmetric Information کہا جاتا ہے۔ عام شہری کے پاس نہ تو پالیسی سازی کے تمام حقائق ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ ریاستی فیصلوں کے دور رس اثرات کا مکمل اندازہ لگا سکتا ہے۔ دوسری طرف فیصلہ ساز حلقے، سرکاری اہلکار اور طاقتور گروہ نہ صرف زیادہ معلومات رکھتے ہیں بلکہ اکثر ان معلومات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ یوں عوام کو کئی بار یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ جن افراد کو انہوں نے اپنے نمائندے کے طور پر منتخب کیا ہے وہ درحقیقت ان کے مفادات کے خلاف فیصلے کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اس کی متعدد مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ بعض اوقات حکومتیں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتی ہیں جن سے فوری سیاسی مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔ عوام کو نئی سڑکیں، پل اور عمارتیں نظر آتی ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان منصوبوں کی مالی لاگت قرضوں کی صورت میں آنے والی نسلوں پر منتقل ہو رہی ہے۔ سیاسی فائدہ فوری حاصل ہو جاتا ہے جبکہ مالی بوجھ مستقبل کے ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اسی طرح مختلف شعبوں کو دی جانے والی خصوصی مراعات، ٹیکس استثنیٰ، سبسڈیز اور حفاظتی اقدامات بھی اکثر قومی مفاد کے بجائے مخصوص گروہوں کے مفادات کے تحت جاری رہتے ہیں۔ ان پالیسیوں سے چند افراد یا ادارے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ معیشت کی مجموعی پیداواری صلاحیت، مسابقت اور ٹیکس محصولات متاثر ہوتی ہیں۔ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ بھی کسی حد تک اسی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی وجوہات کی بنا پر قیمتوں کا تعین معاشی حقائق کے مطابق نہیں کیا جاتا، نقصانات کی بروقت اصلاح نہیں ہوتی، اور بالآخر اس کی قیمت پوری معیشت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مثال بھی قابل غور ہے۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور جرائم کی روک تھام ہے، لیکن جب نگرانی اور احتساب کمزور ہو تو اہلکار قانون نافذ کرنے کے بجائے قانون شکنی سے فائدہ اٹھانے لگتے ہیں۔ بعض پولیس اہلکار مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں اور ان کی حرام کمائی سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ اس طرح پولیس کا محکمہ جس کا کام جرم روکنا ہے، جرائم کے فروغ کا باعث بن جاتا ہے۔

تاہم یہ مسئلہ صرف سیاستدانوں، بیوروکریسی یا ریاستی اداروں تک محدود نہیں۔ نجی شعبے میں بھی بعض کاروباری گروہ مسابقت کے بجائے مراعات، اجارہ داریوں اور سرکاری تحفظ کے ذریعے منافع کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی طرح مختلف سطحوں پر ملازمین، افسران اور پیشہ ور طبقات بھی بعض اوقات اپنے محدود مفادات کے لیے ایسے رویے اختیار کرتے ہیں جن سے مجموعی معاشی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ یوں پورا معاشرہ ایک ایسے نظام میں پھنس جاتا ہے جہاں ہر فریق قلیل مدتی ذاتی فائدے کے تعاقب میں اجتماعی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں کی معاشی منصوبہ بندی، متعدد اصلاحاتی پروگراموں اور بے شمار تجربات کے باوجود پاکستان دنیا کی معاشی درجہ بندی میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکا۔ مسئلہ صرف پالیسیوں کا نہیں بلکہ ان ادارہ جاتی محرکات کا بھی ہے جو پالیسی سازی کو متاثر کرتے ہیں۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے محض نیک نیتی یا اخلاقی نصیحتیں کافی نہیں ہوں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ادارے تشکیل دیے جائیں جو ایجنٹ کے مفادات کو پرنسپل کے مفادات سے ہم آہنگ کریں۔ شفاف احتساب، معلومات تک عوامی رسائی، آزاد میڈیا، مضبوط پارلیمانی نگرانی، مؤثر ریگولیٹری ادارے، کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کا نظام اور قانون کی برابر حکمرانی اس سمت میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب ریاستی ادارے، سیاسی قیادت، کاروباری طبقہ اور عوام سب اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ قومی مفاد اور ذاتی مفاد ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ طویل مدت میں ایک دوسرے کے تکملہ ہیں۔ جو پالیسیاں معاشرے کو کمزور کرتی ہیں وہ بالآخر ان افراد اور گروہوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں جو وقتی طور پر ان سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو فیصلے عوامی فلاح، مسابقت، انصاف اور اقتصادی ترقی کو فروغ دیتے ہیں، ان کے ثمرات بالآخر پورے معاشرے سمیت فیصلہ ساز طبقات تک بھی پہنچتے ہیں۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x