میل کی صورت کیونکر ہو؟

اگرچہ پاکستانی معاشرہ کئی حوالوں سے تقسیم کا شکار ہے، لیکن دو گروہ بہت نمایاں ہیں: ایک مذہبی اور دوسرا لبرل۔ دونوں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور دونوں ایک دوسرے کو قہر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

جب کوئی لبرل آدمی (یعنی وہ جو اپنے آپ کو لبرل سمجھتا ہے، چاہے اُسے لبرل کے مفہوم کا بھی علم نہ ہو) کسی مذہبی آدمی سے ملتا ہے تو بات کا آغاز ہی اس طرح سے کرتا ہے کہ تم جاہل ہو، متشدد ہو، ان پڑھ ملاں، دقیانوس، بنیاد پرست اور بہت سے ایسےالقاب۔ دوسری طرف مذہبی آدمی (یعنی وہ جو اپنے آپ کو مذہبی سمجھتا ہے) کسی لبرل سے بات کرے گا تو چھوٹتے ہی کہے گا کہ مغرب کا غلام، فحش انسان، اللہ اور رسول کا گستاخ، بھٹکا ہوا، وغیرہ۔

ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِن دونوں گروہوں میں ایک مہذہب مکالمے کی صورت کیونکر ہو۔

یہ دونوں گروہ پاکستان میں بستے ہیں، دونوں کا وجود اسی مٹی سی بنا ہے اور دونوں نے یہیں رہنا ہے۔ نہ تو سارے لبرلز خود کش حملوں کے ذریعے صفۂ ہستی سے مٹائے جا سکتے ہیں اور نہ سارے مذہب پسندوں کو سمندر بُرد کیا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ حقیقت تسلیم نہیں کر لی جاتی اور دونوں قسم کے لوگوں میں مکالمہ نہیں ہوتا، پاکستان میں ایک صحت مند معاشرے کا وجود ایک خواب رہے گا۔

کوئی تو ایسا پلیٹ فارم ہو جہاں مختلف الخیال لوگ بیٹھ کر بات کر سکیں۔ کوئی یونیورسٹی، کوئی ایسا ادارہ ہو جو سیمنار کا سلسلہ شروع کرے جن میں ایک طرف پرویز ہود بھائی قسم کے لوگ بات کریں اور دوسری طرف جماعتِ اسلامی کے حافظ نعیم جیسے۔ ایسے کسی سیمینار میں خالص مذہبی جماعتوں مثلاً دعوتِ اسلامی کے کسی راہمنا کو بھی بلایا جائے؛ آخر اُن کے مخاطبیں صرف اُن کے اپنے پیروکار ہیں کیوں ہوں، جو آگے سے سوال نہیں کرتے، صرف سر ہلاتے ہیں اور سبحان اللہ کی صدائیں لگاتے ہیں؟

مذہب پسند لوگوں کو جنونی کہہ کر اپنی دل کی بھڑاس نکال لینا کافی نہیں۔ ان کی ’جنونیت‘ کو ایڈریس کرنا ضروری ہے۔ اور دوسری طرف لبرلز کو گنہ گار اور بھٹکے ہوئے کہہ دینے سے گلو خلاصی تو نہیں ہو جائے گی۔ آخر اُن کی ’اصلاح‘ کون کرے گا؟

تو جب تک ہمارے ملک میں صحتمند مکالمے کی روایت نہیں ہو گی، ہمارے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ معاشرے کی صحت مند بنیادوں پر تشکیل بھی اُس کی ایک ذمہ داری ہے۔ لہٰذا ایسے پلیٹ فارم مہیّا کرنا بھی اس کا ایک ضروری کام ہے۔

نجی شعبے میں ایک پلیٹ فارم ٹی وی کے ٹاک شوز ہو سکتے تھے۔ مگر یہاں کمرشلزم غالب ہے۔ یہ دو مختلف الخیال گروہوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی بجائے ان کے درمیان اختلافات کو اور بھڑکاتے ہیں تاکہ ان کی ریٹنگ بڑھے۔

ڈیجیٹل میڈیا کی سطح پر’عبارَت‘ کا یہ بلاگ ایک کوشش ہے۔ اس عبارت کو share کر کے ہم انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ معاشرہ ہمارا ہے، اس کے مسئلے بھی ہمارے ہیں اور حل بھی ہم نے ہی کرنا ہیں۔ کیونکہ ہم نے یہیں رہنا ہے۔

یہ بلاگ ایک معروف پلیٹ فارم Substack پر بنایا گیا ہے: ibarat.substack.com

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x