فاروق عاربی
غزل
کیا نہ کام ایسا جسے کہیے کارنامہ؛
چلے کبھی نہ کوئی چال شاطرانہ۔
ہم قفس میں رہنے کے عادی ہو گئے ہیں؛
کبھی نہ دل میں آیا خیال باغیانہ۔
کمال آدمی کی مثال کیسے بنتے؛
ذات بے ہنر سی، جمال درمیانہ۔
مزاجِ بے نیازی، نہ آرزو میں شدت؛
لباس صوفیانہ، نہ بات عالمانہ۔
دشمنی کسی سے، نہ دوستی کسی سے؛
انداز جارحانہ، نہ خوئے دلبرانہ۔
کیا نہ عشق ایسا کہ جان سے گزرتے؛
مزاج تھا اگرچہ ہمارا عاشقانہ۔
بے قرار دل کو، قرار ایسے آئے؛
کہ یار سامنے ہو، بھرا ہو پیمانہ۔


Leave a Reply