جنت کے مشاغل اور ماہرینِ معیشت

محمد فاروق عاربی

جنت میں جانے کی خواہش اور امید ہر کسی کو ہوتی ہے؛ ہمیں بھی ہے۔ لیکن میں اکثر سوچتا ہوں کہ لوگ جنت میں وقت کیسے گزاریں گے؟ دنیا کی زندگی تو چار دن کی ہے، کٹ ہی جاتی ہے؛ بقول بہادر شاہ ظفر:

عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن؛
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں۔

لیکن جنت میں وقت گزارنے کے لیے نہ آرزو کا سہارا ملے گا نہ انتظار کا۔ جنتی کو ہر چیز آرزو سے پہلے مل جائے گی۔ اور انتظار کرنے کو وہاں کچھ ہو گا نہیں: جتنی چیزوں کا انتظار کیا جاتا ہے، وہ صرف دنیا میں پائی جاتی ہیں، جیسے موت کا انتظار، اچھے وقت کا انتظار، محبوب کا انتظار، دفتر میں ہوں تو چھٹی کا انتظار، گھر میں ہوں تو بیوی کے میکے جانے کا انتظار، وغیرہ ۔ لیکن جنت کی زندگی تو ایک نہ ختم ہونے والی زندگی ہوگی، اس میں نہ موت آئے گی نہ بیوی میکے جائے گی۔ ایسے میں جنتیوں کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگا کہ وہ وقت کیسے کاٹیں۔

مجھے لگتا ہے کہ لوگ جنت میں وہی کام بطور شغل اختیار کر لیں گے جو دنیا میں بطور پیشہ کرتے رہے ہوں گے۔ مثلاً کرکٹ کھیلنا جن کا پیشہ ہے وہ جنت میں بھی اپنی ٹیم بنا کر وقت گزاری کے لیے کرکٹ کھیلا کریں گے۔ کبوتر باز وہاں بھی کبوتر اڑائیں گے اور بٹیر باز بٹیر مُشتی کیا کریں گے۔ پتنگ بازوں کے لیے تو ہر دن بہار کا سا ہوگا۔ جنت کی فضا ہر دم بُو کا ٹا کی صداؤں سے معمور رہے گی۔ اسی طرح جو شاعر ہیں وہ جنت میں جا کر بھی شاعری کریں گے (اگر گئے تو!) اور حوروں پر غزلیں کہا کریں گے۔۔۔ مگر دوسروں کی حوروں پر! کیونکہ اپنی حور جتنی بھی حسین ہو اُس پر شعر موزوں نہیں ہو پاتا، جیسے ایک شاعر نے خود اعتراف کیا ہے:

گھر میں بیگم ہو تو اک شعر بھی کہنا مشکل ہے؛
اور کھڑکی میں صنم ہو تو غزل ہوتی ہے۔

صحافی حضرات بھی وہاں شغل کے طور پر اخبار نکال سکتے ہیں۔ قصے کہانیاں سننا اور دوسروں کے حالات کی خبر رکھنا، بلکہ نظر رکھنا، انسان کو ہمیشہ سے اچھا لگتا ہے۔ جنت میں تو یہ شوق اور بڑھ جائے گا کیونکہ وہاں فراغت بہت ہوگی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگ اخبار زیادہ پڑھتے ہیں، اس لیے کہ انھیں اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ اب ظاہر ہے جب پڑھنے والے بہت ہوں گے تو لکھنے والوں کا کام بھی خوب چمکے گا۔ افسانہ نگاروں کے افسانے چھپتے رہیں گے اور کالم نگار اپنے کالم لکھیں گے۔ جنت میں مولوی صاحبان کی حالت البتہ قابلِ رحم ہوگی۔ خصوصاً جب وہ ان لوگوں کو جنت کے مزے لوٹتے دیکھیں گے جنہیں انہوں نے دنیا میں جہنم جانے کی نوید سنائی تھی۔ تب یقیناً وہ بہت کڑھیں گے۔ مرثیہ گو اور ذاکرینِ کرام بھی بہت پریشان ہوں گے کہ اب کس کو رلائیں۔

ہمارے فوجی بھائیوں کے لیے بھی خدا کی جنت میں رہنا مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں کوئی کسی کا دشمن نہ ہوگا اور نہ ہی رزم گاہیں جمیں گی۔ لہٰذا وہ اپنی خالص پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو بطور شغل اپنا نہیں سکیں گے۔ مزید برآں تباہ شدہ اداروں کو بحال کرنے یا معیشت سدھارنے کے بہانے یا محض منہ کا ذائقہ بدلنے کی خاطر براہِ راست حکومت سنبھالنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ البتہ ایک کام ہوسکتا ہے یعنی جنتیوں کو صبح سویرے مشقیں کروانے کا۔

رہ گئے سیاستدان، انھیں تو ہر قسم کے حالات میں جینے کا فن آتا ہے۔ حکومت چاہے کسی کی ہو، سیاستدان اپنا راستہ نکال لیتے ہیں۔ اگر وزیرِ اعظم نہ بن سکیں تو حزبِ اختلاف کے رہنما بن کر زندگی کے مزے لوٹتے ہیں۔ وزیر نہ بن سکیں تو مشیر ہو جاتے ہیں۔ سیاستدانوں کے تو بچے بھی گھر میں ’وزیر وزیر‘ کھیلتے ہیں۔ اگرچہ جنت میں صاحبانِ سیاست وزارتوں کے مشغلے سے محروم رہیں گے کیونکہ وہاں خدا کے وزیر و مشیر سب فرشتے ہوں گے لیکن ایک مشغلہ ایسا ہے جو وہ جنت میں بھی جاری رکھ سکیں گے؛ وہ ہے بیان بازی کا! ویسے دنیا میں بھی وہ محض بیان بازی ہی کرتے ہیں، اصل کام تو یہاں بھی فرشتے کرتے ہیں۔

غرض ہر شخص جو جنت میں جائے گا، اپنا دنیا والا پیشہ کسی نہ کسی طریقے سے وہاں بھی جاری رکھ سکتا ہے لیکن سوال جو مجھے کھائے جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ جنت میں ماہرینِ معاشیات اور بینکار کیا کریں گے؟

معیشت دان کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ ایسا انتظام کرے جس سے محدود وسائل میں زیادہ سے زیادہ ضروریات کی تکمیل ہو سکے۔ معاشی مسئلے کی بنیاد وسائل کی قلت اور لامحدود خواہشات ہیں۔ ان میں سے ایک چیز، وسائل کی قلت، جنت میں نہیں ہوگی۔ لہٰذا معاشی مسئلے کا وجود بھی نہیں ہوگا۔ ایک جنتی جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے فوراً مل جائے گی۔ وہاں حکومت خدا کی ہوگی اور انتظام فرشتوں کے پاس۔ نہ کوئی وزیرِ مالیات ہوگا نہ مالیاتی پالیسی بنا کرے گی۔ نہ سالانہ بجٹ کا ڈرامہ دیکھنے کو ملے گا اور نہ ہی بجٹ سے وابستہ آس یا خوف جنم لے گا۔ دوسری طرف جنت میں کوئی خرید و فروخت بھی نہیں ہوگی کیونکہ تمام اشیا و خدمات مفت مہیا ہوں گی۔ جب خرید و فروخت نہیں ہوگی تو کرنسی کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جب کرنسی نوٹ نہیں چھپیں گے تو جنت میں کوئی مرکزی بینک ہوگا نہ مانیٹری پالیسی۔

پس ماہرینِ معاشیات کا تو جنت میں کوئی کام نظر نہیں آتا، وہ کیا کریں گے وہاں جا کر؟ میرے کچھ معیشت دان دوست البتہ بہت مطمئن ہیں کہ انہیں جنت میں بھی زندگی گزارتے ہوئے مشکل پیش نہیں آئے گی۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ دنیا میں ہم نے علمِ معاشیات کے جتنے بھی ماڈل بنائے ہیں وہ سب مفروضوں پر مبنی ہیں لہذا جنت میں بھی ہم مفروضوں پر جی لیں گے۔ ہم وہاں بہت سے معاشی مسئلے فرض کر لیں گے اور پھر ان کے حل تلاش کرتے پھریں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں ہم اپنی معاشی پالیسیاں دوسروں پر لاگو کرتے ہیں، جنت میں کس پر کریں گے؟ وہاں ایسا کون غریب ملے گا جو ہمارے لیے تجربہ گاہ بنے گا؟ بلکہ دنیا میں جن غریبوں کو ہم نے سبز باغ دکھائے تھے کہ ان کی غربت ختم ہو جائے گی، جنت میں ان سے منہ چھپانا مشکل ہو جائے گا۔

بینکار بھی ایسی صورتِ حال سے دوچار ہوں گے۔ ان کا کام ہے بچت کاروں سے بچتیں جمع کرنا اور سرمایہ کاروں کو دینا۔ دنیا میں لوگ بچتیں اس لیے کرتے ہیں کہ بڑھاپے میں، جب وہ کمانے کے قابل نہیں رہیں گے، اُن کی زندگی آرام سے گزرے۔ بہت سے لوگ اپنے بچوں کے لیے مال جمع کرتے ہیں۔ لیکن جنت میں نہ بڑھاپا ہوگا نہ بچے اور نہ ہی وسائل کی کمی کا خدشہ! جب مستقبل کے خدشات ہی نہیں ہوں گے تو بچتیں بھی نہیں ہوں گی۔ دوسری طرف سرمایہ کاروں کو بھی روپے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر کوئی شخص کارخانہ لگانا چاہتا ہے (محض شغل کے لیے) تو وہ صرف خواہش کرے گا اور کارخانہ اس کے سامنے تیار کھڑا ہوگا۔ اِس کے لیے اُسے کسی بینک سے قرض لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

عام لوگوں کو دیے جانے والے قرضوں کا بھی وجود نہیں ہوگا۔ اوّل تو اللہ تعالیٰ نے بنے بنائے اور آراستہ و پیراستہ گھر جنت میں دینے ہیں، لیکن اگر کسی کو اپنے لیے نیا گھر بنوانے کا شوق ہو یا کسی کے لیے تاج محل بنوانا ہو تو اسے محض اشارہ کرنے کی ضرورت ہوگی، پلک جھپکتے محل تیار ہو جائے گا۔ ٹی وی، ریفریجریٹر، نئے ماڈل کی گاڑی، غرض ہر چیز جنتی کے ایک اشارۂ ابرو پر مہیا کر دی جائے گی۔ پس جنت میں فنڈز کی رسد ہوگی نہ طلب۔

اس کا مطلب ہے کہ جنت میں پہنچ کر دنیا بھر کے ماہرینِ معاشیات اور بینکار سخت مشکل میں ہوں گے۔ محض حوروں سے دل بہلانے سے ان کا وقت کہاں کٹے گا؟ معاشیات تو ویسے بھی خشک مضمون ہے۔ جو انسان دنیا میں اپنی ساری زندگی معاشیات پڑھتے پڑھاتے گزار آیا ہو، جنت کی رونقوں میں اس کا دل مشکل سے لگے گا۔ ایک بینکار کی انگلیاں نوٹ گنتے ہوئے جو لطف محسوس کرتی ہیں، وہ حوروں کے لمس میں کہاں حاصل ہوگا؟ جس شخص نے دنیا میں صرف سود کھایا ہو اسے جنت کے میوے کیا مزہ دیں گے؟ اہلِ ایمان تو جنت کے ذکر سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن جب میں سوچتا ہوں تو دل میں ایک ہول سا اٹھتا ہے کہ ایسی جنت میں ہم کیسے جئیں گے؟

ایک گروہ البتہ ایسا ہے جن کے لیے جنت میں وقت کاٹنا مسئلہ نہیں ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں جنت کا شوق حوروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے رب کے دیدار کے لیے ہے۔ سنا ہے، جنت میں اللہ تعالی انسان کی آنکھ میں یہ صلاحیت پیدا کر دے گا کہ وہ خدا کو براہ راست دیکھ سکے گی۔ جب وقت کا خالق آنکھوں کے سامنے ہو گا تو زماں و مکاں سب پیچھے رہ جائیں گے۔

Earlier version published in Urdu Digest, October 2004

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x