محمد فاروق عاربی
ممّا !
جی، میری بیٹی !
ماں نے تو بیٹی کی پکار پر فوراً جی کہا، لیکن بیٹی آگے کچھ نہیں کہہ پائی۔ کچھ دیر خود سوچتی رہی۔ کچھ سمجھ نہ آیا تو پھر بولی:
ممّا، نانی اماں کب مرے گی؟
ماں کا جی چاہا اسے زور سے ایک تھپڑ مارے لیکن پھر ضبط کر کے کہا:
اللہ نا کرے نانی اماں کو کچھ ہو! بیٹی، ایسی بُری باتیں منہ سے نہیں نکالتے۔
بیٹی نے کچھ دیر بعد پھر پوچھا:
ممّا ، بابا کب آئیں گے؟
جلد آ جائیں گے، ماں نے ہمیشہ کی طرح جواب دیا۔ بیٹی پھر سوچوں میں گم ہو گئی کہ اس کے بابا جلد کیسے آ سکتے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ جب کوئی مرتا ہے تو بابا آتے ہیں۔ اچانک اسے یاد آیا کہ بابا ایک بار پھوپھو کی شادی پر بھی آئے تھے۔
ممّا، ابھی کس کی شادی ہونے والی ہے؟
ہم اپنی گڑیا کی شادی کر دیتے ہیں، ماں نے بہت پیار سے اپنی بیٹی کو باہوں میں لیتے ہوئے کہا۔
لیکن گڑیا سمجھ گئی کہ ممّا ایسے ہی کہہ رہی ہے، شادی تو بڑی آپیوں کی ہوتی ہے۔
ممّا ، سچ بتائیں نا، کس کی شادی ہو گی؟
بیٹا، ابھی تو کسی کی شادی نہیں ہونے والی۔
ممّا، پھر بابا جلدی کیسے آئیں گے؟
ماں کے دل پر ایک چوٹ سی لگی۔ بیٹی کی باپ کے لئے اداسی دیکھ کر وہ بہت ہی غمزدہ ہو گئی۔ جی تو اس کا بھی چاہتا ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ رہے لیکن حالات نے ہجر مقدر کر رکھا ہے۔ بڑی بے بسی کے احساس کے ساتھ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اے میرے رب ! تو ہمیں جن سے ملاتا ہے پھر انھیں ہم سے جدا کیوں کر دیتا ہے؟



Leave a Reply