محمد فاروق عاربی
پاکستان کے عام لوگوں کا آئی ایم ایف سے نالاں ہونا قابلِ فہم ہے کیونکہ ہمارے ہاں بیانیہ کچھ اس طرح کا بنا دیا گیا ہے کہ ہم اپنی معاشی ناکامیوں کا ذمہ دار آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کو سمجھتے ہیں۔ لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ملک کے نامی گرامی ماہرینِ معیشت بھی انہیں اداروں کو ہی ملامت کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا کام کسی ملک کے لیے پالیسی سازی نہیں۔ معاشی پالیسیاں، اچھی ہوں یا بری، حکومت خود ہی بناتی ہے۔ یہ ادارہ تو صرف معاشی بحران کی صورت میں قرض دینے کا کام کرتا ہے تاکہ متعلقہ ملک اپنے بین الاقوامی واجبات ادا کر سکے۔ اب اگر ہم ہی ہر وقت بحرانی کیفیت میں رہتے ہیں تو قصور ہمارا اپنا ہے نا کہ آئی ایم ایف کا۔ بد قسمتی سے ہم سب مع ہمارے ماہرین ایک ایسے بیانیے کا شکار ہو چکے ہیں، جو قومی انا کو سہارا ضرور دیتا ہے، مگر اصل میں ایک خطرناک خود فریبی ہے۔
اپنی معاشی غلطیوں کی وجہ سے ہمیں بار بار آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے کے لیے جانا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے، یہ قرضِ حسنہ دینے والا ادارہ نہیں ہے۔ اس کے ہر قرض پروگرام کی اپنی کچھ شرائط بھی ہوتی ہیں، جو ہمیں سخت لگتی ہیں۔ ہمارے لیے یہ ادارہ اب ایک ایسے محبوب کا روپ لے چکا ہے جس کا ہجر بھی ہمیں برداشت نہیں اور وصال بھی پریشان کرتا ہے۔ پاکستان دسمبر 1958 کی ایک سرد رات میں پہلی بار آئی ایم ایف کے کوٹھے پر گیا تھا۔ اس کے بعد تو جیسے ایک روایت بن گئی ہے، ہر دو تین سال بعد اس کی گلی میں جانا لازمی ٹھہرا۔ اور اب تو حالت یہ ہے کہ:
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں (امیر خسرو)۔

اصل مسئلہ اس محبوب کے ساتھ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی جوانی برباد کر لی ہے۔ آئی ایم ایف کی مہربانی کہ ہر بار وہ ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مفید مشورے دیتا ہے مگر ہماری عادتیں اتنی بگڑ چکی ہیں کہ ہم اپنی اصلاح کرنے سے قاصر ہیں۔
ہماری بحیثیت قوم جو سب سے بری عادت ہے وہ ہے اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کرنا۔ پاکستان میں قومی بچت کی شرح صرف 14 فیصد ہے، جب کہ ہمارے ہی جیسے لوگ جو ہندوستان اور بنگلادیش میں رہتے ہیں ان کی بچت کی شرح 30 فیصد ہے۔
ہم نے ایسا طرزِ زندگی اپنا لیا ہے جس کی ہماری معیشت میں سکت ہی نہیں ہے۔ درآمدی گاڑیوں، موبائل فون، کاسمیٹکس اور پراسیسڈ فوڈز کا جنون ہماری برآمدات کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔ حالت یہ ہے کہ اگر ہمارے ملک کے امیر لوگ باتھ رومز میں امپورٹڈ ٹائلز اور مہنگی فٹنگز نہ لگائیں تو ان کی تسکین نہیں ہوتی۔ مہنگی اشیاء استعمال کرنے کا خبط ہر چند سال بعد ہمیں زرمبادلہ کے بحران میں دھکیل دیتا ہے۔ ایسے میں اگر آئی ایم ایف کی طرف سے غیر ضروری درآمدات پر پابندی یا روپے کی قدر میں کمی کا مشورہ آتا ہے تو شور مچتا ہے۔ اور ہمارے ماہرینِ معاشیات اپنا سارا معاشی علم یہاں انڈیل دیتے ہیں، کہ دیکھیں جی، آئی ایم ایف نے روپے کی قدر کم کرائی ہے، اب مہنگائی ہوگی، جسے قابو کرنے کے لیے سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ بڑھائے گا۔ اس سے سرمایہ کاری کم ہو گی اور بجٹ پر قرض کا بوجھ بڑھے گا، وغیرہ، وغیرہ۔ لیکن اس کے بعد ان کے فہم کی صراحی خالی ہو جاتی ہے؛ وہ اس بنیادی سوال پر روشنی نہیں ڈالتے کہ یہ نوبت آئی کیوں۔ اصل مسئلہ تو ہمارے ملک کے امیر لوگوں اور کسی حد تک متوسط طبقے کا پیدا کردہ ہے جو ایسی آسائشوں کا دلدادہ ہے جنھیں پورا کرنے میں ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
صرف یہ نہیں کہ ہمیں آسائشیں اور مراعات چاہئیں، بلکہ یہ ہمیں مفت چاہئیں۔ ٹیکس ہم نے نہیں دینا اور سبسڈی ہمارا حق ہے۔ یہ دوسری بڑی خرابی ہے ہمارے معاشی منظرنامے کی۔ ٹیکس کا نظام اس طرح کا ہے کہ سارا بوجھ چند تنخواہ دار طبقوں اور رسمی کاروباروں پر رہتا ہے، جبکہ زراعت، تھوک و پرچون، اور جاگیردارانہ معیشت تقریباً ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے ٹیکس محاصل اس کی ضروریات سے بہت کم ہیں۔ اسی لیے آئی ایم ایف ٹیکس بڑھانے کے بات کرتا ہے۔ یہ ہمارے اپنے ملک کے پالیسی سازوں پر ہے کہ کن لوگوں پر ٹیکس لگاتے ہیں ۔ کمزوروں پر یا طاقتور لابیوں پر۔
پاکستان کا ایک اور سنگین مگر کم بیان کردہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ وزارتِ خزانہ، جو معاشی پالیسی سازی کا اہم ادارہ ہے، محض ایک ’فائر فائٹنگ یونٹ‘بن چکی ہے۔ یہ وزارت آئی ایم ایف کے ہر جائزے کے بعد چند وقتی اقدامات ان کی تسلی کے لیے کر لیتی ہے تاکہ قرض کی اگلی قسط مل سکے مگر کوئی طویل المیعاد حکمتِ عملی نہیں بنا پاتی۔ مزید یہ کی جائزہ ملاقاتوں سے پہلے جو تیاری کرنی چاہیے اس میں بھی کمی رہ جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وزارتِ خزانہ کے اپنے قابلِ اعتبار میکرواکنامک ماڈل ہوں اور وہ اپنے تجزیوں کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھیں، لیکن یہاں بہت خلا ہے۔ نتیجتاً، مذاکرات کی میز پر ہمارے افسران ایک کمزور پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی ٹیم کے سوا کوئی حکومتی ٹیم آئی ایم ایف کے لوگوں کے تجزیے کو چیلنج نہیں کرتی۔ اور اکثر چپ چاپ قرض کی شرائط مان آ کر جاتے ہیں۔
تکلیف دہ شرائط اور معاشی فیصلوں کی ذمہ داری درحقیقت ہمارے اپنے اوپر ہے؛ آئی ایم ایف کو اس کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا دراصل فرار کی ذہنیت کا مظہر ہے۔ اگر واقعی آئی ایم ایف سے جان چھڑانی ہے تو پہلے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک باوقار ملک بننا چاہتے ہیں یا ہر بحران میں بیرونی آکسیجن ماسک لگا کر مصنوعی سانسوں پر زندہ رہنے والی ریاست۔ جب تک اشرافیہ کی درآمدی فیشن پر مبنی معیشت، سبسڈی کی عادت، اور ٹیکس سسٹم کے نام پر قومی منافقت ختم نہیں ہوتی، تب تک ہماری آئی ایم ایف کے دروازے پر حاضری لگانے سے جان نہیں چھوٹے گی۔
نوٹ: اس مضمون کا ایک ابتدائی ورژن آن لائن میگزین ’ہم سب‘ میں 13 اکتوبر 2025 کو شائع ہوا تھا۔


Leave a Reply