مصنوعی شرحِ مبادلہ: معیشت کا فائدہ یا نقصان؟

محمد فاروق عاربی

ہم پاکستانی ڈالر کے ساتھ روپے کی شرحِ مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کے حوالے سے بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ ذرا سا ڈالر کا ریٹ بڑھے تو ٹی وی پر سنسنی خیز ٹِکر چلنے لگتے ہیں، جیسے، ڈالر کی اونچی اُڑان، روپیہ منہ کے بَل گر گیا، وغیرہ اور اخباروں میں روپے کی بے قدری پر اداریے اور کالم لکھے جاتے ہیں۔ سیاسی مخالفین موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں اور حکومت خواہ مخواہ دباؤ میں آ جاتی ہے۔

اس دباؤ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت روپے کی شرح مبادلہ کو مصنوعی طریقے سے کم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے معیشت کا تو کوئی بھلا نہیں ہوتا، البتہ دو طرح کے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں: ایک، وہ امپورٹرز جو سستی درآمدات سے منافع کماتے ہیں، اور دوسرے، منی لانڈررز جو ملکی دولت کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے لیے سستے ڈالر استعمال کرتے ہیں۔

دوسری طرف اِس پالیسی سے دو اہم شعبے نقصان اٹھاتے ہیں: ہمارے برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز)، جن کی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو جاتی ہیں، اور وہ محنت کَش پاکستانی جو بیرونِ ملک کام کر کے ترسیلات زر بھیجتے ہیں۔ کم شرح مبادلہ پاکستان میں اُن کی کمائی کی قدر کم کر دیتی ہے۔

اس غلط پالیسی کی بنیاد عوام میں پائی جانے والی چند گہری غلط فہمیوں پر ہے۔ کچھ تو لاعلمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اور کچھ ایک مخصوص معاشی مافیا کے ذریعے جان بوجھ کر پیدا کی جاتی ہیں تاکہ وہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ اس مضمون میں اس حوالے سے چند ایک پہلو پر بات کرتے ہیں۔

روپے اور ڈالر کی کہانی، تاریخی پسِ منظر:

پاکستان میں شرح مبادلہ کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے حکومتِ برطانیہ نے 1 پاؤنڈ کا ریٹ 15 ہندستانی روپے مقرر کیا ہوا تھا۔ 1920 تک یہی ریٹ تھا۔ پھر عالمی جنگوں کے نتیجے میں جب برطانوی معیشت دباؤ میں آئی اور اس کی کرنسی کمزور ہوئی تو پاؤنڈ سستا ہو کے 13.3 روپے پر آ گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت پاؤنڈ کے ساتھ ہمارے روپے کی یہی شرح مبادلہ تھی جو ڈالر کے ساتھ تقریباً 3.31 روپے بنتی ہے۔ کیونکہ برطانیہ ایک طویل عرصے سے ہمارا آقا تھا تو اُس وقت پاؤنڈ ہی ہماری محبوب کرنسی تھی؛ ڈالر سے ابھی اُلفت کے رِشتے قائم نہیں ہوئے تھے۔

پچاس کی دہائی سے حالات بدلنا شروع ہوئے۔ برطانوی معیشت، جو ابھی دوسری عالمی جنگ میں لیے گئے قرضوں کے بوجھ سے نہیں نکل پائی تھی، کوریا کی جنگ کی وجہ سے مذید زیرِ بار آ گئی۔ اصل میں یہ جنگ برطانیہ کی عالمی طاقت ہونے کی آخری جھلک تھی۔ اس کے بعد امریکہ نے نا صرف عالمی معاشی طاقت بلکہ عالمی پولیس مین کے طور پہ بھی اپنی حیثیت منوا لی۔ ساتھ ہی امریکی ڈالر عالمی معیشت کی غالب کرنسی کے طور پر سامنے آ گیا، جس نے برطانوی پاؤنڈ کی جگہ لے لی۔ اس دوران پاکستان SEATO اور CENTOکا بھی رکن بنا۔ آئی ایم ایف کی بھی نظر کرم ہوئی، یو ایس ایڈ کے ڈالر بھی آنا شروع ہوئے اور ویسے بھی پاکستان کے اس وقت کے ماہرینِ معیشت نے سوچا (اور صحیح سوچا) کہ ملک کی بیرونی تجارت میں تنوع ہونا چاہیے۔

ان عوامل کی وجہ سے پاکستان نے اپنا قبلہ برطانیہ سے بدل کر امریکہ کی طرف کر لیا اور دیگر بہت سے ملکوں کی طرح اسٹرلنگ ایریا سے باہر نکل آیا۔ 1956 میں روپے کو ڈالر کے ساتھ لِنک کر دیا گیا اور 4.76 روپے فی ڈاالر کی شرح مبادلہ مقرر کی گئی جو ایک طویل عرصے تک رہی۔

اس شرح مبادلہ میں پہلی بڑی تبدیلی 1971 میں آئی جب بریٹن وُڈز سِسٹم کے خاتمے کی وجہ سے دنیا کی زیادہ تر کرنسیاں فری فلوٹ میں آ گئیں، یعنی اُن کی شرح مبادلہ متعلقہ حکومتوں کی بجائے مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر طے ہونے لگی۔ اسی دوران پاکستان کے ساتھ ایک بڑا حادثہ، سقوط ڈھاکہ کی صورت میں ہوا، جس سے نا صرف پاکستان کی برآمدی آمدنی کا بڑا ذریعہ ختم ہوا بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح ہوا۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی اس وقت بہت زیادہ بڑھ چکا تھا اور زرِ مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کے مشورے کے تحت پاکستان نے اپنی کرنسی کی قدر میں تقریباً 130 فیصد کمی کی اور ڈالر کا ریٹ 11 روپے پر متعین کر دیا۔ اگرچہ یہ ایک بہت بڑا سرجیکل آپریشن تھا لیکن اس سے معیشت کو خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اگلے سال (1972 میں) کرنسی کی قدر میں تھوڑا اضافہ ہوا اور ڈالر 9.90 روپے پر آ کے مستحکم ہو گیا۔

ستر کی پوری دہائی میں اسی ایکسچینج ریٹ کے ساتھ پاکستانی روپیہ ڈالر کے ساتھ نتھی رہا۔ پاکستان نے کہیں 1982 میں آ کر فری مارکیٹ میکانزم کی طرف قدم بڑھایا۔ جس کے بعد روپے کی قدر مسلسل گرتی چلی گئی۔ اَسّی کی دہائی سے لے کر اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں اوسطاً 8 فیصد سالانہ کے حساب سے کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر پچھلے چالیس سالوں میں (یعنی 1985 سے لے کر 2025 تک) پاکستانی روپے کی قدر 18 گُنا کم ہوئی ہے۔ جبکہ اس عرصے میں انڈین روپے میں صرف 7 گنا کمی ہوئی اور بنگلادیشی کرنسی میں 4 گنا۔

روپے کی شرح مبادلہ اس لیے گرتی رہی کہ ہر آنے والی حکومت بد انتظامی کے نئے ریکارڈ قائم کرتی رہی اور معیشت کمزور ہوتی چلی گئی، لیکن لوگوں میں یہ تاثر عام کیا گیا کہ معیشت اس لیے کمزور ہو گئی ہے کیونکہ ڈالر کا ریٹ چڑھ گیا ہے۔ یہ بالکل اُلٹ بات ہے۔ اس تأثر کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری حکومتیں، بجائے ملک میں بنیادی معاشی کمزوریوں کو دور کرنے کے، ڈنڈے کے زور پر ڈالر کو دبانے کی پالیسی اپناتی رہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ابھی بھی جن لوگوں کے ہاتھوں میں پالیسی سازی ہے ان کا مائنڈ سیٹ یہی ہے۔ ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں ہیں جو ہمارے دل و دماغ میں رچ بس گئی ہیں۔

ایکسچینج ریٹ کے بارے میں غلط فہمیاں:

پہلی غلط فہمی: روپیہ جتنا مضبوط ہو گا، معیشت اتنی بہتر ہوگی۔ یہ سب سے عام اور خطرناک غلط فہمی ہے۔ ایکسچینج ریٹ کا اپنی جگہ ایک کردار ہے، لیکن یہ کسی معیشت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ معیشت کی مضبوطی کا تعلق پیداواری صلاحیت، ایکسپورٹس، سرمایہ کاری، ٹیکس نیٹ، روزگار، تعلیم، انفراسٹرکچر، وغیرہ سے ہوتا ہے۔

اگر ایک کمزور معیشت مصنوعی طور پر اپنی کرنسی کو مضبوط رکھے تو وہ صرف قرض لے کر یا زرمبادلہ کے ذخائر کو جھونک کر یہ ’استحکام‘ دکھا سکتی ہے۔ مگر ایسا استحکام نا صرف وقتی ہوگا بلکہ مہنگا بھی ہوگا جو بالآخر معیشت کو مزید کمزور کر دے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ معیشت جتنی بہتر ہوگی، روپیہ اتنا مضبوط ہوگا؛ نا کہ اس کے برعکس۔

دوسری غلط فہمی یہ کہ ڈالر مہنگا ہونے سے معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ڈالر کا مہنگا ہونا لازماً بری بات نہیں؛ بہت سے ممالک اپنی کرنسی کو کمزور رہنے دیتے ہیں تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستی بیچ سکیں۔ چین، کوریا اور ویتنام اس کی چند مثالیں ہیں۔ ان ممالک کی برآمدات اِسی پالیسی کے تحت کامیاب ہوئیں۔ مسئلہ صرف تب پیدا ہوتا ہے جب شرحِ مبادلہ میں غیر یقینی اور تیزی سے اتار چڑھاؤ ہو، جس سے کاروباری حضرات کی منصوبہ سازی متاثر ہوتی ہے۔

معیشت کو دراصل جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ شرح مبادلہ کا قدرتی استحکام ہے، نا کہ مصنوعی طور پر کم یا زیادہ رکھنا۔ جب کاروبار جانتے ہوں کہ اگلے چھ ماہ یا سال میں شرح مبادلہ کس حد تک رہنے کا امکان ہے، تو وہ اپنی درآمد، برآمد، یا سرمایہ کاری سے متعلق بہتر فیصلے اور پلاننگ کر سکتے ہیں۔ غیر یقینی، اچانک حکومتی مداخلت، اور مارکیٹ میں بداعتمادی وہ اصل عوامل ہیں جو شرح مبادلہ کے بحران کو جنم دیتے ہیں۔

مصنوعی ایکسچینج ریٹ کے نقصانات:

جب حکومت مصنوعی طور پر شرح مبادلہ کو نیچے رکھتی ہے تو منی لانڈرنگ کرنے والوں کو ایک سنہری موقع مِل جاتا ہے۔ وہ پاکستان سے سستے ڈالر خرید کر بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرتے ہیں اور وہاں زیادہ قیمت پر بیچ کر منافع کماتے ہیں یا دیگر اثاثے بناتے ہیں۔ اس طرح نا صرف ملک کا سرمایہ ضائع ہوتا ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو وہ پاکستانی ہیں جو بیرونِ ملک محنت کرتے ہیں اور اپنی کمائی پاکستان بھیجتے ہیں۔ جب شرح مبادلہ کم رکھی جاتی ہے، تو ان کی بھیجی گئی رقم کی حقیقی قدر گھٹ جاتی ہے۔ یوں ملک کی سب سے بڑی غیر ملکی آمدنی، یعنی ترسیلات زر پر منفی اثر پڑتا ہے۔اس غلط پالیسی کی وجہ سے کچھ لوگ ہُنڈی کے نظام کی طرف چلے جاتے ہیں جہاں انھیں ڈالر کا بہتر ریٹ مل جاتا ہے۔ ہنڈی کا نظام ایک بہت بڑی بیماری ہے جو معیشت کو کھا جاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے ہمارے اربابِ اختیار حقیقت پسندی کی بنیاد پر پالیسی سازی کریں۔ کرنسی کی قدر کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھ کر نا معیشت مضبوط ہوتی ہے، نا برآمدات بڑھتی ہیں، اور نا ہی بیرونی سرمایہ آتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ شرح مبادلہ کو حقیقی معنوں میں مارکیٹ پر چھوڑا جائے، مانیٹری اور فسکل پالیسیز کے ذریعے استحکام کو فروغ دیا جائے، اور عوام کو یہ شعور دیا جائے کہ روپے کی قدر میں کمی ہمیشہ تباہی کا نشان نہیں، بلکہ ایک اصلاح کا موقع بھی ہو سکتا ہے۔

کرنسی کی مضبوطی سے زیادہ اہم ہے اس کا استحکام۔ پیش گوئی کے قابل شرح مبادلہ (predictable exchange rate) وہ بنیاد ہے جس پر ایک کاروبار دوست معیشت کھڑی ہو سکتی ہے، نا کہ خوش فہمیوں پر مبنی ظاہری طور پر طاقتور روپیہ۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x