آمریت اور مذہبی پیشوائیت

محمد فاروق عاربی

آمریت اور مذہبی پیشوائیت کے بارے میں اکثر یہ نظریہ پیش کیا جاتا ہے کہ ان دونوں میں لازماً اور ہمیشہ گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانی سماج میں آمریت کی جو بھی شکلیں رہی ہیں ان کا مذہبی پیشوائیت سے تعلق اتنا سادہ نہیں ہے کہ ان کے درمیان ہمیشہ تعاون ہی ہوتا ہو۔

آمریت اور مذہبی پیشوائیت دو مختلف مگر باہم متاثر ہونے والے ادارے ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ پر طاقتور ہیں۔ یہ دونوں ادارے انسانی معاشرے کی دو مختلف ضروریات کے تحت وجود میں آئے ہیں۔ اُن کے آپس کے تعلقات کا دارومدار ان کے اپنے مفادات پر ہے۔ کبھی یہ ادارے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کے چلتے ہیں۔

یہ ادارے کیسے وجود پذیر ہوئے؟ علمِ بشریات اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق انسانی زندگی میں مذہب پہلے آیا اور ریاست بعد میں۔ انسان کو اپنے وجود، اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات اور فطرت کے بارے میں سوالات کا جواب چاہیے تھا۔ شروع میں مذہب نے ہی اس کی یہ ضرورت پوری کی۔ بعد میں جوں جوں معاشرتی اور معاشی روابط بڑھے تو ایک انتظامی قیادت کی ضرورت پیدا ہوئی، جس نے وقت کے ساتھ حکومت اور ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی۔ سندھ، چین، دجلہ، فرات اور نیل کے ارد گرد باقاعدہ ریاستوں کے نشان ملتے ہیں۔ انہی قدیم ریاستوں میں آمریت کی بھی ابتدائی شکلیں ملتی ہیں جب مضبوط فوج رکھنے والے افراد اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے اور اپنی مرضی کے فرمان جاری کرتے تھے۔

دوسری طرف مذہب نے جب انسان کواس کے بنیادی سوالوں کے جواب دیے تو ساتھ ہی کچھ رسومات کی بھی بنیاد ڈالی اور معبد بھی قائم ہوئے، جن کی قیادت شروع میں قبیلے یا علاقے کے بزرگ کرتے تھے۔ مذہبی پیشوائیت کا باقاعدہ آغاز شاید یہودیوں نے کیا تھا جس میں ربیوں اور کاہنِ اعظم کو ایک رسمی حیثیت دی گئی۔ ہیکلِ سلیمانی میں عبادات اور قربانیوں کی قیادت یہی طبقہ کرتا تھا۔ ان کے بعد عیسائیت میں پادری، بشپ اور پوپ کی شکل میں پیشوائی کے ادارے بنے۔ ہندومت میں موروثی پیشوائیت قائم ہوئی، جس کے نتیجے میں قدیم دور سے آج تک برہمن طبقہ ہی مذہبی اجارہ داری کا حامل چلا آ رہا ہے۔ اگرچہ گوتم بدھ نے برہمنوں کی اجارہ داری سے انکار کیا اور مراقبہ اور سماجی خدمت پر مشتمل نیا مذہبی تصور دیا لیکن یہاں بھی پیشوائیت سنگھ برادری کی شکل میں موجود ہے۔ مسلمانوں میں قاضی، امام، فقیہ، صوفی، علماء و مشائخ پیشوائی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

یہ تو تھا ایک بہت ہی مختصر سا تبصرہ کہ کس طرح یہ دو ادارے وجود میں آئے۔ اب آتے ہیں اصل سوال کہ ان میں باہمی ربط کی نوعیت کیا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار سے میں چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان بہت ہی کمپلیکس رشتہ رہا ہے۔

ملوکیت کے ابتدائی اور وسطی ادوار میں بادشاہت کو خدا کی مرضی سمجھا جاتا تھا۔ اور بادشاہ ظلِ سبحانی تھا، جس سے وفاداری ایک مذہبی فریضہ تھا۔ یورپ میں قرونِ وسطیٰ کے دوران کلیسا بادشاہت کو مقدس جواز دیتا اور بدلے میں بادشاہ مذہبی اداروں کو مراعات دیتا۔ چوتھی صدی عیسوی میں روم میں چرچ کو ریاستی ادارہ بنانے کی بنیاد رکھی گئی اور رومی بادشاہ نے عیسائیت کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا۔

اس دور میں حکومتی امور میں کلیسا کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ پاپائے روم بادشاہوں کو معزول اور منتخب کر سکتا تھا۔ اس غلبے کے نتیجے میں چرچ کی کرپشن اور عوامی استحصال بڑھ گیا تھا، جس نے بالآخر یورپ میں سیکولر ریاست کے تصورات کو جنم دیا۔ خصوصاً جب انسان کے بہت سے سوالوں کا جواب سائنس نے دینا شروع کیا تو یورپ اور امریکہ میں مذہب کی اہمیت بھی کم ہو گئی اور اسے ریاستی امور سے بھی علیحدہ کر دیا گیا۔ یورپ سے باہر اگرروس اور چین کو دیکھیں تو یہاں مذہب کو افیون قرار دے کر سختی سے دبایا گیا۔

اسلامی تاریخ کا جائزہ لیں تو خلافتِ راشدہ اپنی بنیاد کے اعتبار سے مذہبی تھی۔ اس کے بعد ملوکیت نے بھی مذہب کو حکومتی جواز کے طور پر استعمال کیا۔ بادشاہ ظلّ اللہ فی الارض ہوتا تھا اور اسے خدا کی زمین پر خدا کا نمائندہ قرار دیا گیا۔ بادشاہ خود کو دین کا محافظ ظاہر کرتا، علماء سے اپنی وفاداری کا فتویٰ لیتا، اور صلے کے طور پر علما کو اپنے دربار میں خصوصی حیثیت دیتا۔ قاضی القضات کا عہدہ بھی علماء کو پیش کیا جاتا تھا۔

البتہ برصغیر میں، مسلمانوں کے تقریباً تمام ادوار میں، ریاست اور مذہب کے درمیان تعلق کم و بیش ویسا ہی تھا جیسا یورپ میں نشاطِ ثانیہ کے دور میں۔ چونکہ یہاں اکثریت ہندومذہب کے پیروکاروں کی تھی، اس لیے مسلم حکمران اپنے انتظامی، سیاسی اور تزویراتی معاملات زیادہ تر سیکولر انداز سے حل کرتے۔ اورنگ زیب کے علاوہ کسی حکمران نے اپنی ریاستی معاملات میں مذہب کو اہمیت نہیں دی۔ البتہ علماء اور صوفیا کی سرپرستی ضرور کی جاتی تھی اورانھیں وسائل بھی فراہم کیے جاتے تھے۔ اس حوالے سے آئینِ اکبری تو مشہور ہے ہی لیکن علاءالدین خلجی کا یہ جملہ بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے کہ “سیاست اور حکومت ایک چیز ہے اور شرعی احکام دوسری چیز۔ سلطانی احکام سلطان کے اور شرعی احکام مفتیوں کے ذمہ ہیں۔”

آجکل کی مسلم ریاستوں کو دیکھیں تو سوائے ایران کے، جہاں ولایتِ فقیہہ کا نظام ہے، کسی اور ملک میں مذہبی نمائندوں کو ریاستی اور انتظامی امور میں بالا دستی حاصل نہیں ہے۔ پاکستان کا نظام اس حوالے سے بہت متوازن ہے۔ یہاں مذہب اسلام کو ایک آئینی حیثیت دی گئی ہے جس میں خدا کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن قوانین پارلیمنٹ ہی بناتی ہے جو عوام کی خواہشات، توقعات اور ضروریات کو مدِ نظر رکھتی ہے۔ اس بندوبست کے نتیجے میں ملک مذہبی انتشار سے کافی حد تک بچا ہوا ہے۔

یورپ ہو یا مسلمان ریاستیں ہمیں ہر دور میں مذہبی پیشواؤں اور بادشاہوں کے درمیان تصادم کی بھی بہت سے مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر گیارہویں صدی میں پوپ گریگوری اور بادشاہ کے درمیان شدید اختلافات ہوئے۔ لیکن طاقت کا کھیل دیکھیں، آخر میں بادشاہ کو ہی پوپ سے معافی مانگنی پڑی۔ یہ تصادم اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ میں مذہبی پیشوائیت ہمیشہ آمریت کا آلہ کار نہیں رہی، بلکہ بسا اوقات خود کو ایک اعلیٰ اخلاقی اتھارٹی کے طور پر پیش کر کے آمریت کو چیلنج بھی کرتی رہی ہے۔ یورپ میں ہی ایک اور مثال مسولینی کی ہے۔ اقتدار میں آتے ہی اس نے چرچ کو دبانے کی بھرپور کوشش کی اور مذہبی سکولوں کو ریاستی کنٹرول میں کرنے کے اقدامات کیے۔ البتہ کچھ عرصے بعد، جب اسے احساس ہوا کہ اٹلی کے عوام کیتھولک مذہب سے گہری وابستگی رکھتی ہے، تو ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے چرچ سے معاہدہ بھی کیا۔

مسلم تاریخ کو دیکھیں تو امام احمد بن حنبل اور وقت کے آمر کے درمیان کشمکش سے سب واقف ہیں۔ خلیفہ مامون الرشید نے معتزلہ کے عقائد کو سرکاری عقیدہ بنایا، اور خلقِ قرآن کے نظریے کو زبردستی نافذ کیا۔ امام احمد بن حنبل جیسے علماء نے خلیفہ کی آمریت کے خلاف علمی اور اخلاقی مزاحمت کی، اور اس راہ میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

ایران میں بیسویں صدی کے اوائل میں رضا شاہ نے مذہب کو پس منظر میں دھکیل کر جدیدیت کی پالیسیاں نافذ کیں۔ مذہبی پیشوائیت نے ان پالیسیوں کی مخالفت کی، جو بالآخر خمینی کے انقلاب کا پیش خیمہ بنی۔ مصر میں حسن البنا اور سید قطب جیسی شخصیات آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامتیں ہیں۔

پاکستان میں آمریت کے تین نمایاں ادوار ہیں۔ ان میں ضیاءالحق کے دور میں مذہبی جماعتوں کو سیاسی و سماجی اثر ملا اور انھیں ریاستی تحفظ حاصل رہا۔ اس کے برعکس پچاس کی دہائی میں مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا اور کئی دیگر علما کو جیلوں میں ڈالنا بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ مشرف اپنے مزاج کے اعتبار سے مذہب پسند نہیں تھا، لیکن اس نے اپنی ضرورت کے مطابق مذہبی جماعتوں کو استعمال کیا۔ جہاں جہاں اسے ضرورت تھی اس نے ان سے سمجھوتہ کیا اور جہاں نہیں تھی وہاں سے مذہبی جماعتوں کو مکھن میں بال کی طرح نکال دیا۔

تو تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب آمریت کو عوامی تائید یا اخلاقی جواز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مذہبی پیشوائیت سے اتحاد کر لیتی ہے۔ جب مذہبی طبقہ اپنے تئیں اثر و رسوخ حاصل کر لیتا ہے تو وہ آمریت کے خلاف کھڑا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ کہنا سادہ لوحی ہوگی کہ ہر مذہبی ادارہ لازماً آمریت کا حلیف ہوتا ہے۔ ایسے بیانیے نہ صرف تاریخی اعتبار سے کمزور ہیں بلکہ اس موضوع پر فکری بحث کو بھی سطحی بناتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ مذہب کی تعبیر و تفسیر کون کر رہا ہے؟ اور کس مقصد کے لیے؟ اگر مذہب کو صرف اپنے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ آمریت کا ایک ہتھیار بن سکتا ہے، اور اگر اسے ایک روحانی اور اخلاقی قوت کے طور پر بروئے کار لایا جائے تو یہ آمریت کے خلاف سب سے مؤثر آواز بھی ہو سکتا ہے۔

نوٹ: اس مضمون کا ایک ابتدائی ورژن آن لائن میگزین ’ہم سب‘ میں 11 اگست 2025 کو شائع ہوا تھا۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x