تنویر

محمد فاروق عاربی

حویلی کے وسیع صحن میں اُس دن کی دوپہر میں کوئی خاص بات تھی۔ سورج کی تیکھی شعائیں کونے میں کھڑے بوڑھے نیم کے درخت سے الجھ رہی تھیں، جب اچانک صدر دروازے کے بھاری کواڑ ایک چرچراہٹ کے ساتھ کھلے اورایک سیاہ رنگ کی گاڑی تیزی سے اندر داخل ہوئی، جو مرکزی برآمدے کے عین سامنے آ کر رک گئی۔

پیر بخش کو یہ منظر اچھا نہیں لگا۔ یہ شاہ صاحب کی حویلی تھی، کوئی تفریح گاہ نہیں۔ اُسے محسوس ہوا کہ کسی اجنبی کا یوں تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے اندر آنا اور برآمدے تک پہنچ جانا اس حویلی کے مقام اور روایت کے خلاف ہے۔ وہ غصے سے گاڑی کی طرف لپکا۔

’محترمہ!‘ اس نے سخت لہجے میں کہا۔ ’آپ کیسے اندر گھس آئیں؟ یہاں لوگ شاہ صاحب سے ملنے کے لیے پیدل بھی آئیں تو جوتے باہر اتار کر آتے ہیں اور آپ گاڑی سمیت یہاں تک آ گئیں؟‘

گاڑی کا شیشہ آہستہ آہستہ نیچے سرک گیا۔ گندمی رنگت، متانت بھرا چہرہ اور دلکش نقوش… پیر بخش کی نظریں وہیں ٹھہر گئیں۔ خاتون نے بوڑھے خادم کی حیران آنکھوں میں دیکھا اور نہایت متانت سے کہا: شاہ صاحب سے کہیں، تنویر آئی ہے۔

یہ نام اس کے لیے بالکل اجنبی تھا، مگر اس خاتون کے لہجے میں پختگی اور آواز میں ایسا اعتماد تھا کہ پیر بخش الٹے قدموں اندر بھاگا۔ شاہ صاحب اپنے بستر پر نیم دراز تھے اور ایک خادم اُن کے پاؤں دبا رہا تھا۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا: شاہ صاحب! باہر کوئی خاتون آئی ہیں، تنویر نام بتا رہی ہیں۔ جیسے ہی اس نے تنویر کہا، شاہ صاحب تڑپ کر اٹھے اور ننگے پاؤں باہر کی طرف دوڑ پڑے۔ جن کے رعب سے پورا علاقہ کانپتا تھا، آج کسی اور ہی رنگ میں تھے۔

باہر آ کر شاہ صاحب نے خود گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ خاتون وقار کے ساتھ نیچے اتریں۔

’تنویر…!‘ شاہ صاحب کی آواز میں ایک لرزش تھی، ایک ایسی آواز جس میں برسوں کی پیاس تھی، اور آنکھوں میں خوشی کے آنسو؛ ’کیا واقعی… تم ہو؟‘

’جی، میں ہی ہوں، نصیر۔‘ اس نے مختصر جواب دیا، مگر اس ایک جملے میں کتنی ہی صدیوں کا سفر سمٹ آیا تھا۔

دونوں خاموشی سے لان کے اُسی کونے کی طرف بڑھ گئے جہاں شاہ صاحب اکثر جا کر بیٹھتے ہیں۔ اُن کے درمیان کوئی اجنبیت نہ تھی، جیسے برسوں پرانا تعلق پل بھر میں زندہ ہو گیا ہو۔

نصیر شاہ: تنویر… تم واقعی لوٹ آئی ہو؟
تنویر: ہاں! شاید بہت دیر کر دی میں نے۔
نصیر شاہ: تمہیں نہیں پتا، میں نے ہر دن تمہیں یاد کیا ہے۔
تنویر:اور میں نے ہر دن سوچا، تم مجھے بھول گئے ہوگے، محبت ماند پڑ چُکی ہو گی۔
نصیر شاہ: محبت کہاں ماند پڑتی ہے، تنویر؟ جسم ماندہ ہو جاتے ہیں۔ جذبے تو جوان رہتے ہیں۔

وہ لمحہ جیسے وقت سے آزاد ہو گیا تھا۔ تنویر کی آنکھیں نم تھیں۔ ’میں امریکہ چلی تو گئی تھی، مگر دل میرا یہیں رہ گیا تھا۔‘ شاہ صاحب نے ایک سرد آہ بھری۔ ’میں نے بھی تمہارے بعد زندگی کو صرف کاٹا ہے، تنویر! جیا ایک دن بھی نہیں۔‘

کچھ دیر کے لیے دونوں کے درمیان گہرا سکوت چھا گیا۔ پھر نصیر شاہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: شاید خدا نے ہمیں اس عمر میں اس لیے ملایا کہ ادھوری کہانی مکمل ہو جائے۔

تنویر دھیمے سے مسکرائی۔ ’کچھ کہانیاں مکمل ہونے کے لیے نہیں ہوتیں۔ صرف دوبارہ محسوس کرنے کے لیے لوٹتی ہیں، حاصل اُن کے نصیب میں نہیں۔‘ نصیر شاہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ’بہرحال، آج کا دن میرے مرنے سے پہلے کی سب سے بڑی دعا پوری کر گیا۔ تمھیں دیکھ لیا، اب کوئی ملال نہیں۔‘

چند گھنٹے جیسے پلک جھپکتے ہی گزر گئے۔ شام کا سایہ گہرا ہونے سے پہلے تنویر واپس چلی گئی۔ مگر اس کے جانے کے بعد، حویلی کے نصیر شاہ اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ وہ اب زیادہ خاموش اور خالی رہنے لگے تھے، جیسے کسی کے پاس اُمید کا آخری سہارا بھی نہ رہا ہو۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x