محمد فاروق عاربی
ڈاکٹر نذیر احمد جماعت اسلامی کی تاریخ کا ایک درخشندہ ستارہ ہیں، جنہوں نے 1970 کے عام انتخابات میں پنجاب کے قبائلی علاقے ڈیرہ غازی خان سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست جیتی تھی۔ ان انتخابات میں پورے پاکستان سے جماعت اسلامی نے چار سیٹیں جیتی تھیں، دو کراچی سے (پروفیسر غفور احمد اور محمود اعظم فاروقی)، ایک دِیر، صوبہ سرحد سے (صاحبزادہ سیف اللہ) اور ایک پنجاب سے ڈیرہ غازیخان کی سیٹ، جس پہ ڈاکٹر نذیر احمد نے کامیابی حاصل کی۔ آپ کی کامیابی محض ایک انتخابی فتح نہ تھی بلکہ ایک نظریاتی جدوجہد، اعلیٰ اخلاقی کردار، اوربہترین سیاسی حکمت عملی کا مظہر تھی۔ ان کی کامیابی کو آج بھی جماعت اسلامی کے کارکنان فخر سے یاد کرتے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ وہ کسی بااثر سرداری یا مذہبی خانوادے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ان کا خاندان جالندھر سے ہجرت کر کے اس علاقے میں آباد ہوا تھا اور مقامی طور پر ان کی کوئی مضبوط برادری بھی نہ تھی۔ قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اُس وقت پورے ڈیرہ غازیخان ڈویژن سے پیپلز پارٹی ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی۔ دوسرے بہت سے اسباب کے علاوہ شاید یہ بھی ایک سبب تھا کہ8جون 1972 کو آپ کو شہید کر دیا گیا۔

ڈاکٹر نذیر شہید پہ لکھی کتابیں پڑھنے سے یا جماعت اسلامی کے حلقوں میں ان کے ذکر سے ان کی شخصیت کے یہ پہلو تو سامنے آتے ہیں کہ آپ ایک درویش صفت انسان، خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اور نظریاتی کارکن تھے لیکن ان کا علمی مرتبہ، وسیع المطالعہ ہونا اور ان کا سیاسی تدبرعام طور پہ سامنے نہیں آتا۔ خصوصا ً ان کا سرداروں، گدی نشینوں اور مذہبی مسند نشینوں کے مقابلے میں الیکشن جیتنا ایک بہت بڑا واقعہ تھا ، جو ایک کیس سٹڈی ہو سکتی ہے لیکن اس کا تجزیہ کم ہی کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم ان عوامل کا جائزہ لیں گے جن کی بنیاد پر ڈاکٹر نذیر شہید نے یہ منفرد کامیابی حاصل کی۔ ہم ان کی سیاسی حکمت عملی کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: قلیل مدتی عوامل، یعنی انتخابی مہم سے متعلق اقدامات؛ اور طویل مدتی عوامل، یعنی ان کی شخصی، سماجی اور دعوتی جدوجہد۔
(1) الیکشن کے دوران علاقائی اتحاد اور انتخابی تعاون کی حکمت عملی:
حالانکہ ڈاکٹر نذیر شہید کا کوئی پہلے سے سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں تھا لیکن جس سیاسی حکمت اور بلوغت کے ساتھ انھوں نے یہ الیکشن لڑا اُسے دیکھ کےحیرت ہوتی ہے۔ ڈیرہ غازیخان ایک طرف تو قبائلی علاقہ ہے جہاں لوگوں کی اکثریت کی رائے ان کے سردار متعین کرتے ہیں اور دوسری طرف، جو لوگ سرداروں کے اثر سے کسی حد تک آزاد ہیں تو وہ مذہبی راہنماوں کے زیر اثر ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کے مقابلے میں لغاری قبیلے کے سردار جناب محمد خان لغاری قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ آپ نے لغاری قبیلے کو تو نہیں چھیڑا لیکن اُس جیسے دیگر بڑے قبیلوں، مزاری، دریشک، کھوسہ اور بزدار قبائل کے ساتھ سٹریٹیجک اتحاد کیے۔ مزاری قبیلے سے یہ طے پایا کہ جماعت اسلامی اور اس کے ھمدردوں کے ووٹ اور ڈاکٹر صاحب کی اپنی برادری جو فاضل پور میں آباد تھی، راجن پور کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر سردار شیرباز مزاری کو ووٹ دیں گے؛ اور بدلے میں جو مزاری قبیلے کے لوگ ڈیرہ غازی خان کے حلقے میں رہتے ہیں وہ ڈاکٹر صاحب کو ووٹ دیں گے۔ دیگر قبائل (دریشک، کھوسہ، بزداروغیرہ) سے یہ معاہدہ تھا کہ ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کی صوبائی سیٹوں پر جماعت کے لوگ ان کو ووٹ دیں گے اور قومی سیٹ پر یہ سارے قبائل ڈاکٹر صاحب کو ووٹ دیں گے۔ یوں لغاریوں کے مقابلے میں ڈاکٹر صاحب نے باقی تمام قبیلوں کو اکٹھا کر لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے حمایت یافتہ سارے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے تھے۔ خود محمد خان لغاری بھی آزاد امیدوار تھے۔

اب آتے ہیں مذہبی ووٹوں کی طرف۔ اتفاق سے دونوں بڑی مذہبی پارٹیوں کے امیدوار ایک ہی شہر تونسہ سے تھے۔ بریلوی مکتبہ فکر کی پارٹی مرکزی جمیعت علما پاکستان کے امیدوار جناب خواجہ قطب الدین صاحب تھے جو تونسہ میں آستانہ خواجہ شاہ سلیمان کے نمائندے بھی تھے۔ ان کا بہت بڑا حلقہ اثر تھا۔ دوسری طرف دیوبندی مکتبہ فکر کے امیدوار معروف عالم دین جناب عبدالستار تونسوی صاحب تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ تونسہ کے شہری علاقوں کے ووٹ ان دو پارٹیوں میں تقسیم ہوں گے۔ اس صورتحال میں آپ نے دہی علاقوں پہ توجہ مرکوز کی جہاں زیادہ تر بزدار قبیلہ آباد ہے، اور اس قبیلے کو آپ نے اپنا حلیف بنا لیا۔
(2) بھر پور اور مؤثر الیکشن مہم:
اگرچہ ڈاکٹر نذیر پہلے ہی کئی برسوں سے دعوتی اور تنظیمی دوروں کے ذریعے علاقے میں متحرک تھے، لیکن الیکشن کے لیے بھی آپ نے بھرپور مہم چلائی۔ اس مہم کا مرکزی تھیم یہ تھا کہ حلقے کے ہر فرد کو یہ علم ہو جائے کہ ڈاکٹر نذیر قومی اسمبلی کا اُمیدوار ہے۔ ویسے تو علاقے کے لوگوں کے لیے آپ کا نام اجنبی نہ تھا، لوگ آپ کی خدمات، شخصیت، اور کردار سے اچھی طرح واقف تھے لیکن انھیں یہ باور کرانا ضروری تھا کہ روایتی امیدواروں (یعنی تمنداروں اور سرداروں) کے مقابلے میں اُن کے اپنے اندر سے ایک آدمی الیکشن میں امیدوار ہے۔ آپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے اپنے لیے ووٹ نہیں مانگا بلکہ آپ کا پیغام یہ تھا کہ جو بھی آپ کے پاس ووٹ مانگنے آئے اس کے کردار کو دیکھ کر ووٹ دیں۔ ووٹ ایک امانت ہے، اسے فروخت نہ کریں۔ اس مہم کے دوران شروع میں ایک پرانی جیپ استعمال کرتے رہے جو اکثر خراب ہو جاتی۔ پھر ایک فدائی نے نئی جیپ لے کر دی جس نے الیکشن مہم کے دوران خوب ساتھ نبھایا۔
اس مہم کے دوران ایک بار تحصیل تونسہ کی ایک دور دراز کی بستی ’جھوک بودو‘ جانا ہوا۔ وہاں ایک مسجد میں نماز پڑھی۔ نماز کے بعد جونہی جماعت کی بات شروع کی وہاں کا امام مسجد بھڑک اٹھا۔ وہ جمیعت علما اسلام کا تھا جن کا اپنا راہنما ، مولانا عبد الستار تونسوی، قومی اسمبلی کا امیدوار تھا۔ اس امام صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو دھکے دے کر باہر نکال دیا اور آپ خاموشی سے، بغیر کسی رد عمل کے، باہر آ گئے۔ آپ کے اس طرز عمل سے بستی کے باقی لوگوں پہ مثبت اثر پڑا اور ان کے دل میں نہ صرف ڈاکٹر صاحب کے لیے عزت و احترام کے جذبات پیدا ہوئے بلکہ جماعت اسلامی کو بھی پزیرائی حاصل ہوئی۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب الیکشن جیتنے کے بعد آپ نے پورے علاقے کا شکریے کا دورہ کیا اور اس بستی میں بھی گئے۔
(3) علاقے کے لوگوں کی خدمت کے لیے ہروقت تیاررہنا:
طویل مدتی حکمت عملی کا اہم پہلو یہ تھا کہ آپ ہر وقت خدمت خلق اور عوامی رابطے کے لیے تیار رہتے۔ ایم خالد فاروق چودھری نے اپنی کتاب سوانح ڈاکٹر نذیر احمد شہید میں بے شمار ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جوآپ کی لوگوں کی اخلاقی اور مالی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی گواہی دیتے ہیں۔ یہاں خاص طور پہ الیکشن کے حوالے سے یہ بات ضرور عرض کروں گا کہ آپ لوگوں کے تھانے، کچہری اور دیگر سرکاری اداروں میں کام میں بھی ہمیشہ مدد کرتے تھے۔ چاہے آپ کسی سرکاری اہل کار کو جانتے یا نہ جانتے اگر کسی نے اپنے کام کے حوالے سے اس کے پاس جانے کا کہا تو اٹھ کے چل پڑتے ۔ ووٹرز کے لیے یہ رویہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
(4) علاقے کے با اثر لوگوں سے روابط اور دوستیاں:
یہ ایک داعی کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ امیروغریب، بااثر و بے کس سب کے ساتھ خیرخواہی کا تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے علاقے میں ہر طبقے کے افراد کے ساتھ تعلقات تھے۔ آپ کے دوستوں میں بڑے بڑے سردار بھی تھے اور غریب محنت کش بھی۔ یہی طرز عمل پروفیسر غفور صاحب کا بھی تھا جو کراچی سے الیکشن جیتے تھے۔
لوگوں کے ساتھ روابط اورتعلقات کے حوالے سے ان کا بڑا سائنٹیفک انداز تھا۔ اپنی روٹین کے مطابق مہنیے کے پندرہ دن اپنے کلینک میں بیٹھتے۔ یہاں مختلف بستیوں سے جو مریض آتے اُن سے علاقے کا حال احوال پوچھتے۔ باتوں باتوں میں وہاں کے مذہبی اور سیاسی رجحانات کا اندازہ لگاتے اور اپنی ڈائری میں باقائدہ نوٹس لکھتے۔ اگلے پندرہ دن ان بستیوں کے دوروں پہ نکل جاتے۔ بستی کے بااثر لوگوں سے ملاقاتیں کرتے اور دعوتی اجتماعات کرتے۔ یوں پورے ڈیرہ غازیخان کے کونے کونے میں لوگ ان کو پہچاننے لگ گئے تھے۔

(5) علم، مطالعہ اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر:
ڈاکٹر نذیر شہید نہ صرف ایک سیاسی کارکن یا دعوتی رہنما تھے بلکہ ایک سنجیدہ، باشعور، اور علمی شخصیت بھی تھے۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا اور وہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی گفتگو میں علمی ٹھہراؤ، دلیل کی قوت، اور حالاتِ حاضرہ کی تفہیم ہمیشہ جھلکتی تھی۔
انتخابی مہم میں ان کا طرزِ خطاب عام فہم اور متاثر کن تھا۔ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کو ان کے مسائل اور سیاسی ذمہ داریوں کا شعور دیتے۔ یہی فکری بالیدگی اور زمینی حقیقتوں سے آگاہی ان کی سیاسی بصیرت کی بنیاد تھی، جس نے انہیں محض ایک امیدوار نہیں، بلکہ ایک رہنما اور مثال بنا دیا۔
ڈاکٹر نذیر احمد شہید کی سیاسی حکمت عملی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خلوص، علم، خدمت، اور تدبر سے مزین سیاست نہ صرف ممکن ہے بلکہ کامیاب بھی ہو سکتی ہے۔ ان کی شخصیت ایک داعی، مصلح، اور سیاسی راہنما کی حسین آمیزش تھی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے نظریاتی اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے علاقائی سیاست کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھا، اور بغیر کسی لالچ یا مفاد کے، ایک ایسا ماڈل پیش کیا جو آج بھی تقلید کے قابل ہے۔
قارئین کے دلچسپی کے لیے ذیل میں ڈیرہ غازیخان کے حلقے کے انتخابی نتائج کا ایک جدول دیا جاتا ہے:



Leave a Reply