محمد فاروق عاربی
مسلمان بچوں کےذہنوں میں تین باتیں بچپن سے ہی ڈال دی جاتی ہیں جو آگے چل کر ہمارے معاشرے میں چند بنیادی مسائل کا باعث بنتی ہیں۔
ایک یہ کہ مال و دولت کمانا بُرا کام ہے۔ زیادہ مال والے لوگوں کو قیامت کے دن زیادہ حساب دینا پڑے گا، اور وہ دیر سے جنت میں جائیں گے۔ جبکہ کم مال والے غریب لوگ جلدی جنت کے دروازے پار کر جائیں گے۔ لہذا دولت کمانے کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ صبر و شکر کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہئے۔ جو مل جائے اس پر قناعت کر لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قناعت کے غلط معانی ہمارے دل و دماغ میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ اس تربیت کا نتیجہ واضح ہے، بقول علامہ اقبال: عمل سے فارغ ہوا مسلماں، بنا کے تقدیر کا بہانہ ۔
اسلام کا تقاضا تو صرف یہ ہے کہ حلال طریقے سے رزق کمایا جائے، اور حرام سے بچا جائے۔ رزق کمانے کے لیے محنت کرنےسے اسلام منع نہیں کرتا لیکن مسلمانوں کے نزدیک دولت کمانا اور اس کے لیے تگ و دو کرنا ایک نا پسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ اگر مسلمان دنیا کمانے میں وقت صَرف نہیں کرتے تو آخرت کمانے اور عبادات میں مصروف رہتے ہیں۔ اصل میں ہم ڈھنگ سے نہ دنیاوی کام کرتے ہیں اور نہ ہی نماز، روزے میں ہمارا دل لگتا ہے۔ اکثر اوقات ہم لوگ فارغ رہتے ہیں-
یہی وجہ ہے کہ جہاں دنیا کی باقی اقوام چاند تاروں سے بھی آگے کائنات کے رازوں تک رسائی حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہیں وہاں مسلمان اس طرح کی محنت کرنا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ترقی کے لیے جدوجہد ہمارے خمیر میں نہیں ہے۔ مفت دولت مل جائے تو ہم اسے نعمت خداوندی سمجھ کر بے دردی سے لٹاتے ہیں۔ عربوں کو تیل کی دولت ملی۔ انھوں نے سمجھا کہ اس پر عیاشی کرنا شکرِخداواندی کا تقاضا ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں بنانا شروع کر دیں لیکن علم کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ اسی دولت سے اگر وہ چاہتے تو آکسفرڈ اور ہارورڈ کے مرتبے کی یونیورسٹیاں بنا سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا۔

(2) دوسری خرابی یہ ہے کہ مسلمانوں نے دنیا کے علم کو قرآن کے علم کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔ اور اپنے آ پ کو جدید علوم سے دور رکھنا عین دینداری سمجھا۔ حالانکہ یہ دین کے اصل تقاضوں سے دوری ہے ۔ دنیا کا وہ علم جس پر آج مغرب کی اجارہ داری ہے اس کا حصول قرآن کا حکم ہے۔ اس دور کے مسلمان، بحیثیت مجموعی، قرآن کے واضح احکام سے انکار کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ علم طب، علم ریاضی اور دوسرے بہت سے علوم کی بنیاد ہمارے اسلاف نے رکھی۔ لیکن آج جب ان علوم کو حاصل کرنے کی بات آتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے ہمارے ایمان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
(3) تیسری خرابی، جو زیادہ خطرناک ہے، اور بچپن سے ہی ہمارے دل و دماغ میں ڈال دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی مسیحا اور کوئی مہدی آئے گا جو امت مسلمہ کے تمام مسائل حل کردے گا، لہذا ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ ہی ہم کچھ کر سکتے ہیں۔ اس سوچ کا نتیجہ ہے کہ ہم لوگ اپنی ساری زندگی انھی مسائل کے ساتھ گزار دیتے ہیں، کیونکہ ہمارے ذہنوں میں شروع سے ہی یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ ان مسائل سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں۔ ان کے لیے کوئی بڑا قائد چاہئے۔
اور قائد ہمیں مُنزِل من اللہ چاہیے۔ مغرب کی مہربانی سے دنیا کو سیاست میں الیکشن کا نظام ملا ہے جس کے ذریعے لوگ خود اپنے حکمران چن سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے بھی اپنے ملکوں میں مغرب کا عطا کردہ یہ نظام رائج کر لیا ہے، لیکن مجال ہے جو ہم اپنے لیے اس نظام کے ذریعے اچھے لوگ منتخب کریں۔
تویہ ہے وہ انفراسٹرکچر یعنی سماجی تحتی ڈھانچہ جس پرہمارے معاشرے کی اٹھان ہے۔ ہم سب سِسٹم کا رونا روتے ہیں، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی بنیاد میں ہی خرابی ہے۔ لوگوں سے ہی سسٹم بنا ہے، اور لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لئے محنت کرنے کو دنیا داری کا نام دیتے ہیں اور دنیا داری کو گناہ سمجھتے ہیں۔ اپنے سسٹم کی خرابی کو خود آگے بڑھ کر ٹھیک کرنے کی کوشش نہں کرتے کیونکہ قائدانہ صلاحیتوں کی بچپن میں ہی مَٹھ مار دی جاتی ہے۔ ہمارے ذہنوں میں بچپن سے ہی یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ قائد اوپر سے آتا ہے۔
اللہ نے تو اپنے آخری نبی حضرت محمد (صل اللہ علیہ وآلہِ وسلم) کو مبعوث کرنے کے بعد اس امت پر ذمہ داری ڈالی تھی کہ اب وہ اس دنیا کی امامت سنبھالے گی، لیکن ہم نے یہ کام نہ کیا۔ پیارے نبی نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص راعی ہے یعنی ہر شخص ایک قائد ہے مگر ہم ہیں کہ پیچھے رہنے پر بضد ہیں۔
بقول غالب: میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی۔


Leave a Reply