وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

محمد فاروق عاربی

اپنے پرانے کاغذات اور فائلیں دیکھتے ہوئے مجھے اخباروں کے کچھ تراشے ایک فائل میں نظر آئے جو میرے کوئی تیس بتیس سال پہلے کے چھپے ہوئے کالم تھے۔ یہ مضامین 1994 سے 1996 کے دوران انگریزی اخبار The Muslim اور The News میں چھپتے رہے۔

اپنی پرانی لکھی ہوئی تحریروں کو اتنے عرصے بعد دوبارہ دیکھنے کی خوشی اپنی جگہ لیکن غم اس بات کا ہے اُس دور میں جن معاشی ادارہ جاتی مسائل پر مضامین لکھے تھے، آج بھی وہ مسئلے اُسی طرح ہیں۔ تین دہائیاں گزر گئیں مگر ہماری معاشی کارکردگی اور ہمارے اداروں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

یہ دس مضامین کے تراشے ہیں، جن میں چھ بجٹ اور فسکل پالیسی پر اور چار مانیٹری پالیسی پر ہیں۔ میرا سب سے پہلا کالم The Muslim میں چھپا تھا۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب میں آب پارہ اسلام آباد میں دی مسلم کے دفتر میں اپنا مضمون لے کر گیا تھا۔ ایک ہلکی داڑھی والے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، جنھیں میں نے اپنا مضمون دکھایا کہ میں یہ چھپوانا چاہتا ہوں۔ پہلے تو انھوں نے کہا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔ پھر انھوں نے میری تعلیم کے بارے میں کچھ سوالات کیے۔ مجھے اندازہ تو ہو گیا کہ وہ میرے بارے کیا جاننا چاپتے ہیں۔ میں نے بھی باتوں باتوں میں یہ ذکر کر دیا کہ میں ڈاکٹر حفیظ پاشا کا شاگرد ہوں، ان کے ساتھ ایم فل کا تھیسس بھی کر رہا ہوں اور آج کل اُنھی کے ساتھ ٹیکس ریفارمز پراجیکٹ پر کام کر رہا ہوں۔ پاشا صاحب کا نام ان کی تسلی کے لیے کافی تھا، اور انھوں نے میرا مضمون رکھ لیا۔ چند دن بعد وہ چھپ بھی گیا۔

میں 1994 میں ایف بی آر (پرانا سی بی آر) کا ملازم تھا، بعد میں سٹیٹ بینک کا، اس لیے یہ مضامین میں نے اپنے فرضی نام (pseudonym) یا بیوی کے نام سے چھپوائے تھے۔ پہلے تو آپ ان مضامین کے ٹائٹل ملاحظہ کریں، انھی سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اُس وقت جن معاشی مسائل پر میں نے بات کی تھی، وہ آج بھی تازہ ہیں:

  1. Budget: Actual & announced (The Muslim May 29, 1994)

  2. Impact of budget 1994-95 on GDP growth and self-reliance (The News July 16, 1994)

  3. Budget, debt and degree of self reliance (The News July 14, 1995)

  4. Unfinished budget agenda becoming regular tradition (The News July 15, 1995)

  5. Experiments: Self Assessment Scheme (The News August 19, 1995)

  6. An evaluation of basic causes for tax evasion (The News June 24, 1995)

  7. Challenge of monetary control in a new scenario (The News Sep 9, 1995)

  8. Is tight monetary policy feasible in current economic scenario? (The News Sep 23, 1995)

  9. Increase autonomy of State Bank necessary for effective implementation of monetary policy (The News Sep 30, 1995)

  10. Is SBP pushing the economy into recession? (The News Jan 27, 1996)

اب آپ پچھلے کچھ ہفتوں کے اخبارات اٹھا کے دیکھ لیں تو آپ کو معیشت پر چھپنے والے مضامین کے عنوانات ایسے ہی نظر آئیں گے۔ وہی ایف بی آر کی ادارہ جاتی کمزوری، وہی ٹیکس چوری، وہی قرضے اور وہی ہماری حکومتوں کا معیشت کے ساتھ مختلف تجربات کرنے کا رویہ۔ مانیٹری پالیسی کی طرف آئیں تو سٹیٹ بینک کا اسی طرح مُلک کو کساد بازاری میں دھکیلنے کا رویہ۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔

اب میں آپ کی خدمت میں دی مسلم میں چھپنے والے اپنے پہلے مضمون کا پہلا پیرا دکھاتا ہوں (زیادہ پڑھنے کی زحمت آپ کو نہیں دوں گا)۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ان مضامین کے صرف عنوانات ہی آج کے حالات کی عکاسی نہیں کرتے، بلکہ ان کے اندر لکھی ہوئی کہانیاں بھی آج کا منظر پیش کرتی ہیں۔:

EACH YEAR government announces its budget with promising figures regarding expenditures, taxes and budget deficit. Either an attractive package is herald to get a political applause or a troubling budget is launched under the pressure from IMF and World Bank. Whatsoever the nature of the budget announced, the true picture of the federal accounts, which appears at the end of a fiscal year is always different to that drawn by the Finance Minister in his budget [speech]. The original budget is subject to various changes during the year. There are a number of examples where fiscal policies of very significant importance are promulgated after or before the budget announcement. Levy of excise duty on telephone for the first time in December 1991, exemption of Yellow taxi cabs from import duty in February 1992 and now raising the prices of wheat before the budget of 1994-95 by the present government are examples of off-budget fiscal policies issued to avoid a debate on these at the occasion of budget session in the House. Now after some days, this political drama is again to be staged, let us examine how the actual revenues, expenditures and budget deficit differ from those announced in the budget, and what are the common reasons of these deviations.

کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کے سٹرکچرل مسائل کیا ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہی ہے کہ جو چال بے ڈھنگی کئی دہائیاں پہلے تھی، آج بھی وہی ہے۔ اُس وقت بھی لوگ ان مسائل کی نشاندہی کرتے تھے، آج بھی ہمارے جیسے لوگ وہی باتیں لکھ رہے ہیں اور حکومت کو خواہ مخواہ کے مشورے دیتے رہتے ہیں۔

آخر میں، آپ کے تفننِ طبع کے لیے معروف مزاح گو شاعر غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی کی ایک غزل پیشِ خدمت ہے، جس کے آخری مصرعے میں تھوڑی سے تبدیلی کر کے اس مضمون کا عنوان قائم کیا ہے۔

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے؛
بدن پر اک پھٹی لنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن؛
پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

ادھر میں کثرت اولاد سے لاغر، ادھر اُن کی؛
زباں پر ترش نارنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

بنا ہیرو سے زیرو اور پھر نیتا، تو کاندھے پر؛
وہی اک شال بے رنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

نہیں ہوتی تو اچھا تھا مگر فرقہ پرستوں میں؛
وہ یک جہتی ہم آہنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

سیاست میں تعصب کا دخل ہونے لگا جب سے؛
دلوں میں آ گئی تنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

جنہیں جنتا کی فکرِ عافیت میں گھل کے مرنا تھا؛
صحت ان کی بھلی چنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

لباس مختصر میں بھی تن آسانی کے خواہاں ہیں؛
کریں کیا؟ آتما ننگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

ضرورت امن کی دنیا میں پہلے سے زیادہ ہے؛
مگر قیمت بہت مہنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

اہنسا کے پس پردہ بہت زوروں پہ تیاری؛
امن کے نام پر جنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

ہوا ہے اور نہ ہوگا کچھ اثر مجھ پر ضعیفی کا؛
خیالوں میں یہ نیرنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

زمانے کا چلن کیا پوچھتے ہو خواہ مخواہ مجھ سے؛
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x