محمد فاروق عاربی
شاعری کسی بھی دور کی ہو اور کسی بھی زبان میں ہو، عورت اس کا مرکزی موضوع رہی ہے۔ شاعر حضرات عورتوں سے محبت کے نتیجے میں عشقیہ شاعری کرتے ہیں۔ اگر یہ محبت ناکام ہو جائے تو المیہ شاعری جنم لیتی ہے۔ اور اگر کامیاب ہو جائے، یعنی شاعر کی محبوبہ اس کی بیوی ہی بن جائے، تو وہ مزاحیہ شاعری کرنے لگتا ہے۔ اور اس مزاح کو اپنا غم چھپانے کی ایک کامیاب کوشش بھی سمجھتا ہے۔
آپ کسی بھی مزاحیہ شاعر کا کلام اٹھا لیں اس میں مزاح کا رنگ بیوی کے ذکر سے ہی ملے گا۔ کبھی کبھار دیگر موضوع بھی آ جاتے ہیں، مثلاً بقرعید کے زمانے میں بکرا بھی شاعری کا عنوان بنتا ہے۔ اور یہی شاعر کا کمالِ فن ہے کہ وہ بیوی اور بکرے کو ایک ہی گھاٹ کا پانی پلاتا ہے، یعنی ایک ہی قِطعے میں فٹ کر دیتا ہے۔
بیوی اور بکرے کے درمیان جو تعلق ہے اس کو سمجھنے کے لیے فلسفے کی گہرائیوں میں اترنا پڑے گا، جس کا یہ مضمون متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا بکرے کی ذات کو چھوڑ کر واپس عورت کی طرف آتے ہیں۔ ویسے بھی عورتوں کی طرف لوٹ کر جانا مردوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ پروین شاکر نے خواہ مخواہ اسے ایک اچھائی جانا، اور بڑی خوشی سے لوگوں کو بتایا کہ:
وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا؛
اک یہی بات ہے اچھی، میرے ہرجائی کی۔
اب اُسے کیا پتا کہ وہ جس دوسری عورت کے پاس جاتا ہے، وہ بھی اِسی بات پر خوش ہے۔
پروین شاکر کی طرح اور بھی بہت سی عورتیں شاعری کرتی ہیں۔ عورتوں کی شاعری کا موضوع بھی اکثر عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ عموماً وہ اپنے بارے میں ہی شاعری کرتی ہیں، یا اپنی ماں کے بارے میں۔ شادی شدہ ہوں تو اپنی بیٹیوں کے لیے ناصحانہ شاعری، بیٹوں سے محبت کا اظہار یا شوہر کا گلہ عنوان بنتا ہے۔ مثال کے طور پر نوشی گیلانی کے یہ دو شعر ہی دیکھ لیں:
زمانے کو قرینے سے وہ اپنے ساتھ رکھتا ہے؛
مگر میرے لیے اس کو کوئی لمحہ نہیں ملتا۔
بھلا اس کے دکھوں کی رات کا کوئی مداوا ہے؟
وہ ماں جس کو کبھی کھویا ہوا بچہ نہیں ملتا۔
لیکن جب بلندیِ خیال کا مظاہرہ کرتی ہیں تو ان کی پروازِ تخیل اچھوتے اور منفرد مقام پر پہنچ جاتی ہے۔ ویسے تو اکثر شاعرات کی شاعری زنانہ ہی ہوتی ہے لیکن پروین شاکر نے مردانہ لہجے میں بھی شاعری کی ہے۔ بعض اوقات وہ ایسی باتیں بھی کہہ جاتی ہیں جو مرد شعرا بھی کہتے ہوئے ڈریں، مثلاً یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
جاں اپنی ہے اور آبرو نسلوں کی کمائی؛
سر کون بچاتا پھرے دستار کے آگے۔
گھمسان کا رن جیت کے لب بستہ کھڑی ہوں؛
میں پُشت سے آئے ہُوئے اک وار کے آگے۔
خیر شاعری مرد کریں یا عورتیں، ایک بات طے ہے کہ اگر شاعری سے عورت کو نکال دیں تو باقی کورا اور بے رنگ کاغذ ہی بچے گا کیونکہ ’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ‘۔ کہتے ہیں علامہ اقبال کی شاعری میں بھی گہرائی اور وسعت نہ آتی اگر ان کی ملاقاتیں بیگم عطیہ فیضی سے نہ ہوتیں، اور وہ کیمبرج کی گلیوں میں سردیوں کی ٹھنڈی راتوں میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نہ گھوما کرتے۔
غالب کا معاملہ البتہ تھوڑا سا مختلف یوں ہے کہ اس نے زندہ شاعری کی ہے اور زندگی کے ہر رنگ کو اپنے شعروں میں سمیٹا ہے۔ لیکن اس کی شاعری کو مقبول بنانے میں نواب جان (یا چودھویں بیگم) کے کردار کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ سو کسی نہ کسی حوالے سے شاعری کا عورت سے تعلق ضرور پایا جاتا ہے۔ اگر کسی شاعر کے معاملے میں آپ کو بظاہر یہ تعلق دکھائی نہ بھی دے تو یقین جانیے خفیہ تعلق لازماً ہو گا۔
اب چونکہ بات خفیہ تعلق تک آپہنچی ہے تو بات یہیں ختم کرتے ہیں۔ مزید ٹوہ کیا لگانا، بہت سے پردہ نشینوں کے نام آسکتے ہیں۔

(یہ مضمون اکتوبر 2016 میں سٹیٹ بینک نیوز میں بھی چھپا تھا)


Leave a Reply