مسلمانوں میں بت پرستی

محمد فاروق عاربی

رسولِ پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کی جو جماعت بنائی اس کی بہت سی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ تھی کہ ان کے دل و دماغ سے ہر قسم کے بت نکل گئے تھے اور وہ صرف خدا پرست تھے۔ رسول پاک ﷺ سے پہلے بھی جتنے پیغمبر آئے اُن سب کا بھی بنیادی پیغام یہی توحید اور خدا پرستی تھا۔

لیکن بت پرستی ایک ایسا مرض ہے کہ یہ بار بار انسانوں کو لاحق ہو جاتا ہے۔ مسلمان بھی اس سے پوری طرح محفوظ نہیں رہے۔ اگرچہ مسلمانوں نے پتھر اور لکڑی کے بنے مجسموں اور مورتیوں کو تو اپنا خدا نہیں بنایا لیکن انھوں نے بہت سے نئے بت تراش لیے ہیں جو پتھر کی مورتیوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔ شرک صرف لکڑی یا پتھر کے سامنے جھکنے کا نام نہیں، بلکہ شخصیت پرستی، موروثی عقیدت، اندھی تقلید، قبر پرستی، اور روحانی پیشواؤں کو مقامِ الوہیت دینے کی صورت میں اس نے ہماری فکری سرزمین کو گرد آلود کر دیا ہے۔

بعض لوگوں نے تو رسولِ پاک ﷺ اور ان کے اصحاب کو بھی تعظیم و عقیدت کے نام پر پرستش کے درجے تک پہنچا دیا۔ حالانکہ انہی صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ رسول پاک ﷺ فوت ہوئے اور آپ کا جسم مبارک ابھی اپنے حجرے میں ہی تھا کہ وہ نظام کی بقا کے معاملات طے کر رہے تھے۔ اور قرآن کی طرف رجوع کر رہے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ رسول پاک ﷺ کی رحلت اُن کے لیے کوئی معمولی واقعہ تھا بلکہ مدینے میں اُس وقت ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ بڑے بڑے صحابہ غم اور اضطراب میں ڈوبے ہوئے تھے۔ حضرت عمر جیسے شخص یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور شدتِ جذبات میں کہہ گئےکہ: آپ فوت نہیں ہوئے، آپ اپنے رب کے پاس گئے ہیں جیسے موسیٰؑ چالیس دن کے لیے گئے تھے۔ آپ ضرور واپس آئیں گے، اور جو کہے گا آپ فوت ہو گئے ہیں، میں اسے قتل کر دوں گا۔ (صحیح بخاری)

لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ جو رسول پاک ﷺ کے سب سے قریبی ساتھی تھے فرما رہے تھے: جو محمد کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد وفات پا چکے ہیں؛ اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا۔ آپ لوگوں کو سورہ آل عمران کی اُس آیت کی طرف توجہ دلا رہے تھے جس میں ہے کہ: اور محمد تو ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے۔ اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تم اپنے پچھلے دین کی طرف پلٹ جاؤ گے؟ (آیت 144)

یہ وہ وقت تھا جب نظام کی بقا، عقیدے کی درستگی، اور امت کے مستقبل کو جذبات پر ترجیح دی گئی۔ اگر صحابہ کرامؓ میں ذرا سا بھی شرکیہ جھکاؤ ہوتا تو یہ موقع سب سے موزوں تھا۔ لیکن نبی اکرم ﷺ کا جسمِ اطہر سامنے تھا، ہزاروں لوگ آپ کی آخری زیارت کو گروہ در گروہ آ رہے تھے، مگر کسی ایک نے بھی شرکیہ کلمات یا حرکات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ تھی نبی کی تربیت یافتہ صحابہ کی جماعت۔

لیکن آج کے مسلمانوں نے اُسی نبی اور انھیں صحابہ کے حوالے سے طرح طرح کے عقیدے گھڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ شخصیت پرستی میں اور بھی آگے چلے گئے ہیں اور صحابہ کے بعد آنے والے بزرگوں کی بھی عملاً پوجا کرتے ہیں۔ یہی انسانوں کی اور باپ دادا کی پوجا اور ان کو معیارِ حق سمجھنا تھا جس کو قرآن نے بار بار منع کیا۔ لیکن انسان پھر اسی گمراہی کی طرف مائل ہوتا ہے۔

اگرچہ اس دور کے اور بھی بہت سے بت ہیں جن کی پرستش کی جاتی ہے، جیسے طاقت، قومیت یا وطنیت، اور مال و دولت لیکن سب سے زیادہ خطرناک شرک سلف صالحین سے اندھی عقیدت ہے۔ آج امت کو اپنے عقیدے کی بنیادوں کی از سرِ نو تطہیر کی ضرورت ہے۔ ہمیں توحید کو صرف درسِ نظامی کی کتابوں سے نہیں، بلکہ اپنے سماجی، سیاسی، اور مذہبی نظام کے ہر دائرے میں نافذ کرنا ہوگا۔ شخصیتوں کی تقدیس سے نکل کر اصولوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ کی اصل محبت یہی ہے کہ ہم اُن کی لائی ہوئی توحید پر عمل کریں، نہ کہ اُنہیں خدائی صفات دے کر اُنہی کی تعلیمات کی نفی کریں۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x