بیانِ غالب

محمد فاروق عاربی

اگر آپ کسی وجہ سے ڈیپریشن کا شکار ہیں، حالات مشکل ہو گئے ہیں اور سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہوگا تو غالب کے اس شعر کا وِرد کرنا شروع کردیں:

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں؛
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا؟

اس شعر میں غالب کی وہ مخصوص شوخیِ تحریر تو نہیں ہے کہ مدّعا عنقا ہو، لیکن معنی میں وُسعت اتنی ہے کہ ایک کتاب لکھ دی جائے۔

اس مختصر سے مضمون میں ہم اِس کے مختلف پہلوؤں (ادبی، فلسفیانہ، مذہبی اور نفسیاتی) کا جائزہ لیں گے۔

(1) لغوی معنی:

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں؛ یعنی زمانہ (وقت) مسلسل حرکت میں ہے۔ دن رات کا آنا جانا، وقت کا گزرنا، یہ سب ایک مسلسل گردش ہے۔ آسمانوں کی حرکت (نظامِ کائنات) اس بات کی علامت ہے کہ دنیا میں سکون نہیں ہے، سب کچھ تغیر پذیر ہے۔

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا؛ جب دنیا میں ہر وقت تبدیلی آ رہی ہے، تو کچھ نہ کچھ ہوتا رہے گا۔ اب اِس میں گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہی فطرت ہے۔

(2) فلسفیانہ پہلو:

غالب اس شعر میں وجودی حقیقت (Existentialism) کو بڑی خوبصورتی اور سادگی سے بیان کرتے ہیں اور کائنات کی وسعت اور اس کی بے پروائی کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پریشانی (anxiety) سے دور رہنے کی بات بھی کرتے ہیں۔

غالب کا پیغام یہ ہے کہ چونکہ انسان کے اختیار میں سب کچھ نہیں، لہٰذا فطرت کے اس بہاؤ کو سمجھ کر خود کو اس کے مطابق ڈھالنا بہتر ہے۔ یہ سوچ رواقی فلسفہ (Stoicism) کے بھی قریب ہے جس کے مطابق انسان ان باتوں پر دھیان دے جو اس کے اختیار میں ہیں، اور جو چیزیں اس کے اختیار سے باہر ہیں اُن پر فکر مند نہ ہو۔ اس کے علاوہ اس شعر کو فیٹلزم کے زاویے سے بھی دیکھ سکتے ہیں؛ یعنی ہر چیز پہلے سے لوحِ محفوظ پہ لکھی ہوئی ہے جو ہو کے رہنی ہے۔ جب ہونی نے ہو کے رہنا ہے تو پھر کیا گھبرانا!

(3) مذہبی پہلو:

غالب کا یہ شعر قرآن کی کئی آیات کے مفہوم سے مطابقت رکھتا ہے، مثلاً: وتلک الایام نداولھا بین الناس )آل عمران، 140)۔ یعنی ہم لوگوں کے درمیان حالات بدلتے رہتے ہیں۔

اسی طرح قرآن میں سات آسمانوں کا ذکر بھی ہے اور گردش لیل و نہار کا بھی۔ مشکلات کے بعد آسانیوں کے آنے کا ذکر بھی ہے اور مشکلات میں صبر کرنے کا بھی۔ یوں غالب کا یہ شعر کئی قرآنی تصورات سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔

دیگر مذاہب میں بھی اس طرح کے تصورات موجود ہیں جو انسان کے اختیار و بے اختیاری کی حدود بیان کرتے ہیں اور انسان کو صبر اور توکل کی تعلیم دیتے ہیں۔

(4) نفسیاتی پہلو:

اس شعر میں ایک حکیمانہ تسلی ہے۔ انسان پریشانی، خوف، غیر یقینی حالات میں گھبرا جاتا ہے۔ غالب یہاں ایک ذہنی تسکین دیتے ہیں کہ تبدیلی ایک فطری امر ہے، کائنات کی ہر چیز اس کی پابند ہے، اور انسان دنیا میں اکیلا نہیں ہے جو تبدیلئِ حالات کا شکار ہے؛ تو پھر پریشانی کیسی؟ جو ہونا ہے وہ ہو کے رہے گا، اس لیے اضطراب بے معنی ہے۔

یہ بات جدید سائیکولوجی سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جو یہ کہتی ہے کہ جو چیز آپ کے اختیار میں نہیں ہے اسے تسلیم کر لیں اور اپنے رد عمل پہ توجہ دیں۔

(5) ادبی پہلو:

اس شعر میں اُردو بلاغت کی کئی ایک صنعتوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، مثلا صنعتِ کنایہ: سات آسمان گردش میں ہیں کنایہ ہے زمانے کی بے ثباتی اور حالات کی تبدیلی سے۔ غالب نے براہِ راست زمانے یا حالات کا ذکر نہیں کیا بلکہ آسمانوں کی گردش کے استعارے سے کہا کہ دنیا میں سب کچھ بدل رہا ہے۔

اسی طرح صنعتِ تضاد بھی موجود ہے۔ رات دن، دو متضاد وقتوں کو اکٹھا بیان کر کے کلام میں رنگینی اور حرکت پیدا کی گئی ہے۔ تضاد کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طرف آسمان جیسی عظیم شے ہے جو مسلسل حرکت میں ہے، تو دوسری طرف انسان جیسا کمزور وجود ہے، اس کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں۔

اس شعر میں لفظی صنعت مراعات النظیر بھی نظر آتی ہے؛ رات، دن، گردش، سات آسمان، یہ سب زمان و مکان سے جڑی ہم نوع چیزیں ہیں۔خطابیہ انداز بھی ہے: گھبرائیں کیا؟ گویا شاعر خود کو اور سامع کو تسلی دے رہا ہے۔ اور پھر یہ شعر رجائیت کا مظہر بھی ہے؛ کچھ نہ کچھ بہتر ہو گا، حالات ایسے ہی نہیں رہیں گے۔

آجکل کے حالات کہ جس میں ایک طرف جنگیں ہیں، دوسری طرف ماحولیاتی بحران اور معاشی مسائل ہیں تو یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ تبدیلی ہمیشہ آتی ہے اور ہر تاریکی کے بعد روشنی ہے۔

(نوٹ: مضمون کی تیاری میں کلام غالب کی مختلف شرحیں، انجم الطاف اور امیت باسولے کی کتاب Thinking with Ghalib اور دیگر ذرائع سے استفادہ کیا گیا ہے)

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x