محمد ﷺ سے وفا

محمد فاروق عاربی

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

اطاعتِ محمد (صل اللہ علیہ و آلہٖ وسلم) اور عشقِ محمد اللہ تعالیٰ کے انعام کا وسیلہ ہیں۔ لیکن علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر میں مسلمانوں سے رسولِ پاک سے وفا کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؛ وفا جو اطاعت اور عشق سے آگے کی کوئی چیز ہے۔

وفا کیا ہے، یہ سمجھنے سے پہلے ذرا یہ دیکھیں کہ محمدِ عربی سے وفا کرنے پر اتنا بڑا انعام کیوں ہے کہ انسان کی تقدیر اُس کے اپنے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے۔

اس انعام کی وجہ یہ ہے کہ آج دنیا میں جو اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو یہ محمد (صل اللہ علیہ وسلم) اور آپ کے وفاداروں کی بدولت ہے۔ یہ بات خود رسول پاک نے جنگِ بدر کے موقع پر کی تھی، جب آپ جنگ شروع ہونے سے پہلےسجدہ ریز تھے اور کہہ رہے تھے کہ: اے اللہ ، اگر آج یہ چھوٹا سا گروہ ختم ہو گیا تو دنیا میں تیری بندگی کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔

بدر کے مقام پر محمد ﷺ کے جانثاروں نے جس کردار کا مظاہرہ کیا تھا اس کا نام وفا ہے۔ وہ تعداد میں بہت تھوڑے تھے۔ جنگی سازوسامان بھی کم رکھتے تھے۔ جب وہ اپنے محبوب نبی کے کہنے پہ جنگ کے لئے نکلے تو انھوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ پیچھے اُن کے بیوی بچوں کا کیا ہوگا۔ اپنی دکانیں اور کاروبار بند کر کے دیوانہ وار نکل پڑے تھے۔ بہت سے لوگوں کے تو قریبی رشتہ دار قریش کے لشکر میں تھے، جن سے انھیں جنگ کرنا تھی۔ لیکن وہ تھے محمد ﷺ کے وفادار۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بدر کی اس جنگ نے ہمیشہ کے لیے شرک کی کمر توڑ دی۔ آج بھی جن لوگوں کا مذہب بت پرستی ہے وہ رسماً ضرور پوجا پاٹ کرتے ہیں مگر یہ بھی مانتے ہیں کہ اصل طاقت ایک بھگوان کے پاس ہے، وہی، جسے مسلمان اللہ کہتے ہیں۔ اور آج الحاد بھی اگر منہ چھپائے پھرتا ہے تو یہ بھی محمد ﷺ کے وفاداروں کی وجہ سے ہے۔

سبق یہ ہے کہ جب بھی محمد (صل اللہ علیہ وسلم) اور اس کے دین پر کڑا وقت آئے تو محمد سے وفا ایسے کرنا جیسے بدر کے جانثاروں نے کی تھی ۔۔۔۔ نہ دشمن کی طاقت کا خوف ہو، نہ وسائل کی کمی تمھیں روکے اور نہ بیوی بچوں کا غم اور کاروبار کے نقصان کی پرواہ۔ جب بھی مسلمان اس کردار کا مظاہرہ کریں گے تو یہ جہان اُن کے آگے سر جھکائے کھڑا ہو گا۔ اور مالکِ جہاں اپنی لوح و قلم ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دے گا، اور کہے گا کہ: لو خود ہی اپنی تقدیر لکھ لو۔

Subscribe to Ibarat

Receive selected articles and a curated weekly digest from Ibarat.

By subscribing, you agree to receive emails from Ibarat. Unsubscribe any time.

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x